اسلام آباد: پاکستان میں ٹریفک حادثات ملکی معیشت پر بھاری بوجھ بن گئے ہیں۔ قومی ٹرانسپورٹ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثات سے ملک کو سالانہ تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جو کئی بڑے بین الاقوامی مالیاتی معاہدوں سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سڑکوں کی حفاظت کی صورتحال خطے میں سب سے کمزور ہے۔ ڈرائیوروں کی بڑی تعداد ٹریفک قوانین سے ناواقف ہے جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انسانی غلطی سڑک حادثات کی سب سے بڑی وجہ قرار دی گئی ہے۔
ہر پانچ منٹ میں ایک حادثہ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک ٹریفک حادثہ پیش آتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ ملک میں ہر سال 28 ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 تک حادثات میں 200 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق بڑے شہروں میں بھاری گاڑیاں حادثات کی بڑی وجہ ہیں۔ کراچی میں تقریباً 65 فیصد حادثات میں بھاری ٹرانسپورٹ ملوث ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل سوار بھی ہیلمٹ نہ پہننے اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
ماہرین کا مطالبہ
روڈ سیفٹی کے ماہرین نے ملک گیر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آگاہی مہمات چلائی جائیں اور اسکول و کالج کے نصاب میں ٹریفک کی تعلیم شامل کی جائے تاکہ نوجوان نسل قوانین کی پابندی کی اہمیت سمجھ سکے۔ سخت نفاذ سے بھی خطرناک ڈرائیونگ کی عادات کم ہو سکتی ہیں۔
ہر سال ہزاروں خاندان کمانے والے افراد کی موت یا مستقل معذوری کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ زخمیوں کے علاج اور تباہ شدہ گاڑیوں کی مرمت پر خرچ ہونے والی رقم معیشت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔
ویب ڈیسک

