کراچی: صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کے اوقات میں ایک گھنٹے کی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ یوم اساتذہ کی ایک تقریب کے موقع پر کیا گیا جہاں طلبہ کی جانب سے طویل تدریسی اوقات پر تحفظات پیش کیے گئے تھے۔
وزیر تعلیم کے مطابق طالبات نے حکومت سے اضافی تدریسی گھنٹہ ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ طویل اوقات کے باعث دن بھر بھوک سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے ان تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے روزانہ کا شیڈول ایک گھنٹہ کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اوقات میں اضافہ کیوں کیا گیا تھا؟
سید سردار علی شاہ نے بتایا کہ کورونا وبا اور سندھ میں تباہ کن سیلاب کے باعث ہونے والے تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لیے اسکولوں کے اوقات بڑھائے گئے تھے تاکہ نصاب بروقت مکمل ہو سکے۔ تاہم طلبہ کی درخواست پر معاملے پر نظرثانی کی گئی اور نیا شیڈول متعارف کرایا گیا جو صوبے بھر کے تعلیمی اداروں پر لاگو ہوگا۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ حکومت تعلیمی پالیسیاں بناتے وقت طلبہ کے تحفظات کو ہمیشہ مدنظر رکھتی ہے اور سیکھنے کے ماحول کو بہتر بنانا صوبائی انتظامیہ کی ترجیح ہے۔
سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی
تقریب میں وزیر تعلیم نے سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے جبکہ متعدد عمارتوں کی مکمل تعمیر نو درکار ہے۔ انہوں نے وفاق سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی تاکہ متاثرہ بچوں کی تعلیم میں خلل کم سے کم ہو سکے۔
طلبہ، والدین اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کم اوقات سے روزمرہ کے معمولات بہتر ہوں گے اور تعلیمی ماحول میں بہتری آئے گی۔
ویب ڈیسک

