اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت چھوٹے سرمایہ کاروں کو صرف 5 ہزار روپے سے ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی سہولت دے رہی ہے تاکہ عام شہری بھی مالیاتی شعبے میں حصہ لے سکیں۔ انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام "آن مائی ریڈار” میں حکومت کی معاشی حکمت عملی پر تفصیلی بات کی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بڑھتے ہوئے قرضوں اور قرض کی ادائیگی کی لاگت سے نمٹنے کے لیے بڑی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور مؤثر پالیسیاں ناگزیر ہیں۔
قرضوں کا بوجھ کم کرنے کی حکمت عملی
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے جن میں لائیبیلٹی مینجمنٹ اور قرض کی واپس خریداری کی حکمت عملیاں شامل ہیں۔ ان اقدامات سے قرض لینے کی لاگت کم ہوگی اور ادائیگیوں کا دباؤ گھٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینا چاہتی ہے اور روایتی بینکاری پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنا چاہتی ہے۔ سکوک بانڈز جیسی مالیاتی مصنوعات کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ غیر بینکاری مالیاتی اداروں اور انشورنس سیکٹر کو بھی بڑا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
این ایف سی ایوارڈ پر مشاورت
وزیر خزانہ نے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے حوالے سے بتایا کہ اس پر بات چیت گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں شروع ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے لیے تمام فریقوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے اور مالی وسائل کی تقسیم میں احتیاط برتنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی آبادی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح وسائل اور مالیاتی نظام پر دباؤ ڈال رہی ہے اس لیے موجودہ وسائل اور مراعاتی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ویب ڈیسک

