مظفرگڑھ: پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے 55 سالہ غلام قادر نے نویں جماعت کے امتحان میں شرکت کر کے ثابت کر دیا ہے کہ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ برسوں کے وقفے کے بعد تعلیم کی جانب واپس آنے والے غلام قادر نے بتایا کہ ان کے تعلیم یافتہ بچوں نے انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کی ترغیب دی، اور ان کی حوصلہ افزائی نے امتحان میں بیٹھنے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
غلام قادر نے میڈیا سے اعتماد کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پڑھنا چاہتے تھے مگر مختلف مشکلات کی وجہ سے سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا کہ ماضی میں دو بار میٹرک کے امتحان میں ناکام ہوئے، مگر امید نہ ہاری۔ اس بار انہوں نے توجہ اور نظم و ضبط کے ساتھ تیاری کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مضبوط ارادہ عمر سے زیادہ اہم ہے۔
13 سال بعد واپسی
غلام قادر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے تقریباً 13 برس قبل آخری بار نویں کا امتحان دیا تھا۔ تب سے وہ صحیح موقع کے منتظر تھے۔ اب 55 سال کی عمر میں وہ امتحان کامیابی سے پاس کرنے کے لیے پراعتماد ہیں، اور اس مرحلے کے بعد بھی تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ قدم بہ قدم آگے بڑھ کر اعلیٰ تعلیمی اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ان کی کہانی لچک، حوصلے اور واضح وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک طاقتور پیغام دیتی ہے: عمر سیکھنے کی حد نہیں، بلکہ سوچ اور عزم کامیابی طے کرتے ہیں۔ ان کی مثال ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جنہوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔

