امریکہ ایران جنگ بندی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے پر عالمی منڈیوں میں تیزی سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے تشویش ظاہر کی اور مشرق وسطی سے ہر نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھی۔ اسی دوران بڑھتی کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا۔ برینٹ خام تیل تقریباً 5 فیصد بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔
مغربی اسٹاک منڈیوں پر دباؤ رہا۔ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.6 فیصد گرے جبکہ یورپی فیوچرز میں ایک فیصد سے زائد کمی آئی۔ تاہم ایشیائی منڈیوں نے مختلف سمت اختیار کی۔ سیول، تائپے اور ٹوکیو کے اسٹاکس میں اضافہ ہوا اور تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی۔
آبنائے ہرمز کے گرد ایران کے اقدامات نے کشیدگی کی ایک اور پرت بڑھا دی۔ اگرچہ ایران نے علاقے میں نقل و حرکت محدود کی، لیکن جہاز رانی مکمل طور پر نہ رکی اور 20 سے زائد بحری جہاز حال ہی میں اس راستے سے گزرے۔ بعد میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ نے ایرانی مال بردار جہاز قبضے میں لے لیا، جس پر ایرانی فوجی حکام نے جواب کا عندیہ دیا۔
مالیاتی شعبے میں بھی خدشات سامنے آئے۔ نیشنل آسٹریلیا بینک نے بڑھتے خطرات سے خبردار کیا اور عالمی عدم استحکام کے باعث 500 ملین ڈالر تک کے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ دس سالہ امریکی ٹریژری پر ییلڈ تقریباً 4.266 فیصد تک چڑھ گئی جبکہ امریکی ڈالر نے حالیہ کمزوری کے بعد دوبارہ مضبوطی پکڑی۔

