لاہور: مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس کی شکایت کنندہ آذربائیجان کی شہری کو قانونی رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد پولیس اسکواڈ کے ساتھ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے وطن روانہ کر دیا گیا، حالانکہ متاثرہ خاتون نے حکام سے پاکستان میں رہ کر مقدمے کی پیروی کی خواہش ظاہر کی تھی۔
دی ایکسپریس ٹریبیون کی اتوار کی رپورٹ کے مطابق 22 سالہ خاتون نے واپسی کو زبردستی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کیس کو انجام تک پہنچتا دیکھنا چاہتی ہے۔ تاہم پولیس نے اسے اس کی مرضی کے برخلاف اپنے ملک واپس بھیج دیا۔
خاتون ستمبر کے آخر میں ایک کاروباری دورے پر پاکستان پہنچی تھی۔ چند روز بعد اس نے الزام لگایا کہ لاہور کے ڈیفنس علاقے میں کرائے کے فلیٹ میں تین افراد نے اسے شراب پلانے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طبی معائنے میں زیادتی کی تصدیق ہوئی جبکہ ملزمان نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم بھی کیا۔
تین ملزمان گرفتار، سہولت کار خاتون کا جیل چالان
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے ہفتے کو پریس کانفرنس میں گرفتاریوں کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق تینوں ملزمان نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فلیٹ میں غیر ملکی شہری کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
اس کیس میں سہولت کاری کا الزام رکھنے والی ایک خاتون کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسے 17 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مزید تفتیش کے لیے اس کی تحویل درکار نہیں۔
متاثرہ خاتون کا بیان پہلے ہی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق سرکاری طبی سہولت سے فرانزک شواہد حاصل کیے گئے جبکہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سے واقعات کی ترتیب کا تعین کیا گیا۔
کیس نے زائرین کی سلامتی پر سوالات اٹھا دیے
اس کیس نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی کیونکہ شکایت کنندہ ایک غیر ملکی شہری ہے جو کاروباری مقصد سے لاہور آئی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے زائرین کی سلامتی اور ہائی پروفائل مقدمات میں انصاف کی رفتار پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ سخت نگرانی میں تفتیش تیز رفتاری سے جاری ہے تاکہ عدالت میں مکمل چالان پیش کیا جا سکے۔ حکام نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فرد جرم کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

