تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کا نہ تو کوئی فوجی حل ہے اور نہ پابندیوں سے اس کا خاتمہ ممکن ہے؛ صرف سفارتی حل کارگر ہو سکتا ہے اور ایران کے خلاف جارحیت کو ختم کر سکتا ہے۔
اتوار کو تہران میں ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے سفرا اور نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا: "کوئی فوجی یا پابندیوں پر مبنی حل موجود نہیں۔ صرف سفارتی حل کارگر ہو سکتا ہے اور ایران کے خلاف جارحیت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔”
انہوں نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن "حکمت اور عقلیت” کا راستہ اپنائے گا، تاہم خبردار کیا کہ اگر امریکہ فوجی راستے کا انتخاب کرے تو ایران پہلے سے زیادہ تیار ہے اور کسی نئی جارحیت پر ایرانی ردعمل پہلے سے سخت ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے لیے 7 روزہ منصوبہ
عراقچی نے کہا کہ ایران کے وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے 7 روزہ تجویز پیش کی۔ منصوبے کے تحت معاہدے کے 7 روز کے اندر آبنائے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران سفارتی تصفیے کے لیے تیار ہے مگر اپنے دفاع کے عزم پر قائم ہے۔ ایران کو سفارتی ذرائع سے واشنگٹن کا باضابطہ جواب موصول ہو چکا ہے، تاہم اس کے مندرجات ابھی عام نہیں کیے گئے۔
وزیر خارجہ نے امریکی میڈیا کی ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ ایرانی وفد کو امریکہ سے نکال دیا گیا تھا، اس دعوے کو "بچکانہ اور ناشائستہ” قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ اولمپکس کے میزبان ملک سے کیا جو شکست کے بعد کسی دوسرے ملک کے کھلاڑیوں کو ملک بدر کر دے۔
دباؤ کی سیاست پر تہران کا مؤقف
عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تازہ روابط "موثر، باعزت اور دوستانہ” رہے ہیں اور "اعتماد، امن، استحکام اور سلامتی” کی جانب ایک نئے راستے کا آغاز ہو چکا ہے۔
ان کا استدلال تھا کہ نہ نئی پابندیاں اور نہ فوجی دھمکیاں نتائج دیں گی۔ "کوئی فوجی حل نہیں اور نہ مزید پابندیوں پر مبنی حل موجود ہے،” انہوں نے کہا کہ صرف "عدل، انصاف اور سفارتی وقار” پر مبنی مذاکرات ہی تنازع کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ "بہت جلد” ختم ہو جائے گی اور اس کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔ انہوں نے ایران کو شدید فوجی اور معاشی دباؤ کا سامنا قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو تنازع کے خاتمے کے طریقے کا انتخاب کرنا ہوگا۔

