لندن: برطانوی حکومت ہنر مند کارکنوں کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ورک پرمٹ ہولڈرز کو ملازمت میں زیادہ لچک مل سکے گی۔ اطلاعات کے مطابق اہل کارکنوں کو ویزے کی مدت کے دوران ایک ہی اسپانسر تک محدود نہیں رہنا پڑے گا۔
ان مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد کام کی جگہ پر غیر منصفانہ سلوک کے خدشات دور کرنا ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت کارکنان اپنے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے آجروں کی شکایت آسانی سے کر سکیں گے — مثلاً زائد اوقات کام کروانے، پاسپورٹ ضبط کرنے یا مقررہ حد سے کم تنخواہ دینے والے اسپانسرز کے خلاف۔
8 اکتوبر 2026 سے نفاذ متوقع
اطلاعات کے مطابق حکومت 8 اکتوبر 2026 سے ان نئے قوانین کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ورک پرمٹ ہولڈرز اور آجر نفاذ سے پہلے سرکاری رہنمائی کا انتظار کریں گے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ تبدیلیاں ان کی انفرادی ویزا شرائط پر کیسے لاگو ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات ہزاروں غیر ملکی پیشہ ور افراد کو متاثر کر سکتی ہیں۔ فی الحال بہت سے کارکنان امیگریشن حیثیت کے لیے اپنے اسپانسر پر شدید انحصار کرتے ہیں، جبکہ نئے قوانین انہیں موجودہ ویزوں کی بقیہ مدت کے لیے زیادہ اختیارات دے سکتے ہیں۔
پی آئی اے کی لندن پروازوں میں اضافہ
دریں اثنا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے پاکستان اور لندن کے درمیان پروازیں بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ قومی ایئر لائن 27 اکتوبر سے ہر ہفتے سات پروازیں چلائے گی، یعنی دونوں شہروں کے درمیان روزانہ پرواز کی سہولت میسر آئے گی۔
فی الحال پی آئی اے لندن کے لیے ہفتے میں چار پروازیں چلاتی ہے۔ نئے شیڈول کے تحت اسلام آباد سے لندن کے لیے ہفتے میں پانچ پروازیں ہوں گی جس سے مسافروں کے لیے سفری اختیارات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔

