ٹوکیو: جاپان نے مستقل رہائش کی درخواست کی فیس بیس گنا بڑھا کر 2 لاکھ ین کر دی ہے جبکہ آمدنی، پنشن اور زبان سے متعلق نئی سخت شرائط بھی عائد کر دی گئی ہیں۔ امیگریشن سروسز ایجنسی نے یکم اکتوبر کو نظرثانی شدہ رہنما اصول شائع کیے۔ 30 ستمبر تک موصول ہونے والی درخواستوں پر پرانی 10 ہزار ین فیس ہی لاگو رہے گی چاہے منظوری بعد میں ہی کیوں نہ ملے۔
نئی شرائط کیا ہیں
درخواست گزاروں کو عمومی طور پر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے گھرانے کی آمدنی اسی حجم کے جاپانی گھرانوں کی اوسط آمدنی سے مستقل طور پر زیادہ ہے، جو 2024 میں 57 لاکھ 50 ہزار ین تھی۔ حکام متوقع پنشن فوائد کا بھی جائزہ لیں گے جو عمومی طور پر 30 سال کی ملازمتی پنشن شراکت کے برابر ہوں، اور جہاں فوائد کم ہوں وہاں مالی اثاثوں کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزاروں کو جاپانی زبان میں کم از کم بی ون سطح کی مہارت اور جاپانی قوانین و معاشرتی اصولوں کی سمجھ کا مظاہرہ بھی کرنا ہو گا جبکہ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی حاضری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ انتہائی ہنر مند غیرملکی پیشہ ور افراد، ان کے اہل خانہ اور جاپان میں خاطر خواہ تعلیم حاصل کرنے والوں کے ساتھ مختلف سلوک کیا جا سکتا ہے۔ مکمل فریم ورک کا اطلاق یکم اپریل 2027 سے دائر ہونے والی درخواستوں پر ہو گا۔
امیگریشن سے متعلق کئی دیگر فیسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے: رہائشی حیثیت کی تبدیلی یا تجدید کی درخواستیں جو پہلے 6 ہزار ین میں ہوتی تھیں اب مطلوبہ مدت کے لحاظ سے 10 ہزار سے 75 ہزار ین تک میں ہوں گی۔
آخری تاریخ سے پہلے طویل قطاریں
فیس میں اضافے کے اعلان پر ستمبر کے آخر میں امیگریشن دفاتر میں رش لگ گیا اور ٹوکیو کے مرکزی امیگریشن بیورو میں انتظار کا وقت سات گھنٹے سے تجاوز کر گیا۔ 22 سالہ امریکی نژاد طالب علم یوجی چونو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے دستاویزات جمع کرانے کے لیے پانچ گھنٹے انتظار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان کی کم شرح پیدائش اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے پیش نظر ملک کو نئے آنے والوں کو قبول کرنا ہو گا۔
سختی کیوں کی جا رہی ہے
یہ تبدیلیاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب 2025 کے آخر میں جاپان کی غیرملکی آبادی 41 لاکھ 20 ہزار کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی جو ایک ہی سال میں 9.5 فیصد بڑھی۔ وزیراعظم سنائے تاکائیچی نے کہا کہ عوام کے ایک حصے میں بے چینی اور ناانصافی کا احساس پایا جاتا ہے اور حکومت اس بات پر کام کر رہی ہے کہ جاپانی شہری اور غیرملکی باشندے محفوظ طریقے سے رہ سکیں۔ گزشتہ سال کے ایوان بالا کے انتخابات میں امیگریشن مرکزی موضوع رہا تھا جس میں جاپان فرسٹ جماعت سانسیتو کو غیر متوقع کامیابی ملی تھی، حالانکہ مزدوروں کی قلت کے باعث جاپان بین الاقوامی کارکنوں پر بڑھتا ہوا انحصار رکھتا ہے۔
مستقل رہائش سے ملازمت کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، قیام کی تجدید کی ضرورت نہیں رہتی اور حامل اپنی غیرملکی شہریت برقرار رکھ سکتا ہے۔ معیاری راستے کے لیے جاپان میں مسلسل دس سال قیام درکار ہوتا ہے جبکہ جاپانی شہریوں کے شریک حیات اور انتہائی ہنر مند پیشہ ور افراد کے لیے تیز راستے موجود ہیں۔ جاپان میں مقیم پاکستانیوں سمیت دیگر غیرملکی باشندوں کے لیے پیغام واضح ہے کہ پہلے سے منصوبہ بندی کریں۔
ویب ڈیسک

