اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے جس سے ملک بھر کے صارفین پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ اضافہ جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کے باوجود کیا گیا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 2.84 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 349 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 2.28 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب ڈیزل 374.31 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
مسلسل دوسرے روز اضافہ
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے ایک روز پہلے بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل پیٹرول 2.29 روپے بڑھ کر 346.16 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 1.11 روپے بڑھ کر 372.03 روپے فی لیٹر ہوا تھا۔ لگاتار اضافے سے موٹرسائیکل سواروں، ٹرانسپورٹروں اور کاروباری طبقے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
مہنگائی پر اثرات
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات کا انحصار انہی پر ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے کرایوں میں اضافہ، ترسیل کے اخراجات بڑھنا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر عام گھرانوں پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور صارفین پر بڑھتے بوجھ کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی تھی جس سے کئی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، تاہم حکومت نے عوامی خدشات کے باوجود نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا۔

