مکہ مکرمہ: سعودی عرب نے مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی خبروں کی تردید کردی ہے۔ حکام کے مطابق ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور خوف پھیلانے پر گرفتار کیا گیا۔ حکام نے زور دیا کہ اسلام کے مقدس ترین مقام پر بم دھماکے کی کوشش ناکام بنانے کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں۔
ایکس پر جاری بیان میں حکام نے کہا: "مقدس دارالحکومت میں سکیورٹی حکام نے راہگیروں کو ہراساں کرنے اور ان میں خوف و ہراس پھیلانے والے ایک شخص کو گرفتار کیا اور فوری کارروائی کی۔”
بیان میں مزید کہا گیا: "سکیورٹی حکام اس واقعے سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔” مشتبہ شخص کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
سوشل میڈیا پر کیا وائرل ہوا
سوشل میڈیا پر پھیلے دعوؤں میں کہا گیا تھا کہ دھماکہ خیز جیکٹ پہنے ایک مشتبہ خودکش بمبار خانہ کعبہ کے قریب پہنچا تھا، جسے سکیورٹی اہلکاروں نے پکڑ لیا۔ آن لائن شیئر کی گئی ویڈیوز میں سکیورٹی عملے کو شاہ عبدالعزیز گیٹ کے قریب ایک شخص کو قابو کرتے دیکھا گیا، لیکن فوٹیج سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہ شخص دھماکہ خیز مواد رکھتا تھا۔
ٹیرر مانیٹر کے تجزیے کے مطابق صرف ویڈیوز سے اس شخص کی شناخت یا گرفتاری کی وجہ ثابت نہیں ہوتی۔ بم دھماکے کی کوشش ناکام بنانے کے دعوے کی سعودی حکام نے کبھی تصدیق نہیں کی۔
سعودی حکام نے عوام پر زور دیا کہ سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور آن لائن گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں سے ہوشیار رہیں۔
مدینہ حملے کے بعد حساس صورتحال
یہ واقعہ ایک نازک موقع پر پیش آیا ہے۔ 29 ستمبر کو سعودی قیادت والے اتحاد نے حوثی ملیشیا پر مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم اسٹیشن پر حملے کا الزام لگایا تھا، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان نے جمعہ کو اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "سنگین اشتعال انگیزی” قرار دیا تھا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت کے ساتھ حرمین شریفین کے اطراف سکیورٹی توجہ کا مرکز رہی ہے۔

