اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئی آٹو پالیسی 2026-31 پر مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے۔ معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق قرض دہندہ ادارے نے مسودے کی کئی شقوں پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزارت صنعت و پیداوار نے حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو جمع کرایا تھا۔ حکومت اب فنڈ کے تحفظات پر اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کو بریفنگ دے گی، جس کے بعد پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی۔
اب آگے کیا ہوگا
پروپاکستانی کو ذرائع نے بتایا کہ مقامی کار سازوں، درآمد کنندگان اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد نیا مسودہ حتمی کیا جائے گا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو گاڑیوں کو سستا بنانے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی تھی۔
نئی آٹو پالیسی 2026-31 پر آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے وسیع مذاکرات کے حصے کے طور پر بات چیت جاری ہے اور یہ مزید مشاورت اور منظوریوں سے مشروط ہے۔
مسودے میں کیا تجویز ہے
مسودے کے مطابق نئی پالیسی کا ایک اہم مقصد گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہے۔ تجویز ہے کہ اگلے پانچ برس میں روایتی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں 80 فیصد تک کمی کی جائے، جبکہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت 2026 سے ٹیکسوں میں بھی بتدریج کمی ہوگی۔
مجوزہ پالیسی میں بیٹری الیکٹرک گاڑیوں، پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کو یکساں سلوک دیا گیا ہے۔ اس میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات اور ٹیکس میں کمی بھی شامل ہے۔
آئی ایم ایف آٹو پالیسی کی جانچ کیوں کررہا ہے
آٹو پالیسی آئی ایم ایف کے کئی تحفظات کے سنگم پر ہے۔ گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی حکومتی محصولات کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس میں کوئی کمی براہ راست اس مالی حساب پر اثر ڈالتی ہے جس کی فنڈ نگرانی کرتا ہے۔ قرض دہندہ ادارہ پاکستان پر یہ دباؤ بھی ڈالتا رہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے مارکیٹ کھولی جائے اور مقامی اسمبلرز کے تحفظ میں کمی کی جائے، جس کی ملکی صنعت کاروں نے مخالفت کی ہے۔
الیکٹرک گاڑیاں ایک اور پہلو ہیں۔ پاکستان ایندھن کے درآمدی بل میں کمی کے لیے ای وی کے استعمال میں اضافہ چاہتا ہے، لیکن ایسے وقت میں جب فنڈ محصولات کی سخت وصولی کا مطالبہ کررہا ہے، ای وی کے لیے سبسڈی اور ٹیکس چھوٹ خزانے پر بوجھ ہے۔ سستی گاڑیاں، ای وی مراعات اور مالی نظم و ضبط میں توازن ہی وہ مرکزی تناؤ ہے جسے مذاکرات کاروں کو حل کرنا ہے۔

