پنجاب میں نویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج نے صوبے کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ راولپنڈی بورڈ کے تحت 121,739 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے جن میں سے صرف 45,724 کامیاب ہو سکے — یعنی کامیابی کی شرح محض 37.56 فیصد رہی۔
صوبائی صورتحال بھی مایوس کن
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر کے بورڈز میں مجموعی کامیابی کی شرح تقریباً 45.17 فیصد رہی جبکہ لاہور بورڈ میں تقریباً 46 فیصد امیدوار کامیاب ہوئے۔ یعنی ہر دو میں سے ایک سے زائد طالب علم ناکام رہا۔
سرکاری اور نجی اسکولوں میں بڑا فرق
نتائج کا سب سے تشویشناک پہلو سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان فرق ہے۔ راولپنڈی میں سرکاری اداروں کی کامیابی کی شرح 30.82 فیصد رہی جبکہ نجی اداروں کی 60.41 فیصد۔ گوجرانوالہ میں سرکاری ادارے 39.59 فیصد اور نجی 69.71 فیصد رہے۔
184 اسکولوں کا زیرو رزلٹ
راولپنڈی بورڈ کے دائرے میں 184 اسکول ایسے ہیں جن کا نتیجہ صفر فیصد رہا یعنی ان کا کوئی طالب علم بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ ان میں 81 سرکاری اسکول شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم نے ان اداروں کے تعلیمی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
اصل مسئلہ کہاں ہے؟
ماہرین کے مطابق ناکامی کی جڑیں نویں جماعت سے بہت پہلے پیوست ہیں۔ کمزور بنیادی تعلیم، رٹے کی ثقافت، اساتذہ کی تربیت کا فقدان اور ناقص انفراسٹرکچر وہ عوامل ہیں جو برسوں سے جمع ہو رہے تھے۔ عالمی بینک کی دستاویزات بھی پنجاب میں ابتدائی جماعتوں میں ریاضی اور انگریزی کی کمزور کارکردگی کی نشاندہی کر چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج کو مصنوعی طور پر بہتر بنانے کے بجائے اصل تعلیم کو بہتر بنانا ہوگا۔ آسان پرچے وقتی طور پر شرح کامیابی بڑھا سکتے ہیں لیکن طلبہ کی صلاحیت نہیں بڑھائیں گے۔

