وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی انتظامی نظام کے "ری سیٹ” کی تجویز پیش کرتے ہوئے نئے صوبوں کی بحث کو ایک بار پھر قومی مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے لاہور میں "اختیارات کی منتقلی اور بہتر حکمرانی” کے موضوع پر قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں بعد پاکستان کے انتظامی نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے وضاحت کی کہ "ری سیٹ” سے ان کی مراد حکومت گرانا یا سیاسی نظام توڑنا نہیں بلکہ انتظامی طریقہ کار کو بدلنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی بڑھنے، شہر پھیلنے اور عوامی توقعات تبدیل ہونے کے باوجود صوبائی ڈھانچہ بنیادی طور پر وہی ہے۔ صرف پنجاب کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے۔
اصل دلیل: انتظامی رسائی
نقوی کے مطابق نئے صوبوں کی سب سے مضبوط دلیل لسانی یا نسلی شناخت نہیں بلکہ انتظامی رسائی ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹ فیصلہ سازوں کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ نیا صوبائی دارالحکومت بنا دینے سے خودکار طور پر بہتر حکمرانی نہیں آ جائے گی۔
عوامی رضامندی شرط
وزیر داخلہ نے زور دیا کہ اتنی بڑی تبدیلی کوئی ایک سیاستدان، جماعت یا حکومت مسلط نہیں کر سکتی۔ آئینی تقاضوں کے ساتھ سیاسی اتفاق رائے اور عوام کی مرضی ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامی تقسیم کا مطلب ثقافتی شناخت کا خاتمہ نہیں — سندھی سندھی رہے گا اور پنجابی پنجابی۔
اسلام آباد اور اخراجات کا سوال
محسن نقوی نے وفاقی دارالحکومت کو صوبے کا درجہ دینے کی حمایت بھی کی۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبے مہنگے ہوں گے — ہر صوبے کو اسمبلی، سیکرٹریٹ اور انتظامی مشینری درکار ہوگی۔ منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال پہلے ہی تقریباً 15 صوبوں کا ماڈل پیش کر چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحث کو نعروں سے آگے بڑھ کر ٹھوس خاکے تک لے جانا ہوگا — مجوزہ نقشہ، آبادی، آمدن، اخراجات اور وسائل کی تقسیم واضح کیے بغیر یہ محض سیاسی تجربہ رہے گا۔

