اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد میں جی ٹی روڈ کے ساتھ ایک بڑا کمرشل منصوبہ تیار کررہی ہے۔ حکام کے مطابق زمین کی ترقی اور فروخت کے بعد اس منصوبے سے ادارے کو 500 ارب روپے سے زائد آمدن ہوسکتی ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے متعلقہ شعبوں کو منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، جسے اتھارٹی آئندہ مہینوں میں لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اتھارٹی زمین کو ایک ساتھ فروخت کرنے کے بجائے مرحلہ وار ترقی دے کر بیچے گی۔ حکام کے مطابق اس سے قیمتیں مستحکم رہیں گی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہے گی۔
منصوبے کی زمین کی تفصیل
یہ منصوبہ اس زمین پر کھڑا ہے جو سی ڈی اے نے 1967 میں حاصل کی تھی۔ یہ ای ایم ای کالج سے نکلسن مونومنٹ تک 16 کلومیٹر طویل ہے اور جی ٹی روڈ کے دونوں جانب 200 فٹ چوڑی پٹی پر مشتمل ہے۔ مجموعی رقبہ 3,550 کنال ہے۔
تفصیلی منصوبہ بندی کے بعد حکام کا اندازہ ہے کہ تقریباً 2 ہزار کنال کمرشل استعمال میں لائی جاسکتی ہے، باقی حصہ سڑکوں اور سہولتوں کے لیے ہوگا۔ یہ راہداری جی ٹی روڈ کے مصروف ترین حصوں میں سے ایک پر واقع ہے، جہاں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان بھاری ٹریفک چلتی ہے۔ حکام کو پلاٹوں، شورومز اور فیول اسٹیشنوں کی مضبوط مانگ کی توقع ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی بھی سڑک کے لیے زمین شامل کررہی ہے، جس سے ملحقہ پلاٹوں کی قیمت بڑھے گی۔
500 ارب کا تخمینہ کیسے لگایا گیا
تخمینے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فی مربع گز 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی بنیادی قیمت پر بھی ایک کنال تقریباً 50 کروڑ روپے میں فروخت ہوگی۔ فروخت کے لیے تقریباً 2 ہزار کنال کے ساتھ مجموعی رقم آسانی سے 500 ارب روپے سے تجاوز کرجاتی ہے۔
حکام کے مطابق پلاٹ بتدریج جاری کیے جائیں گے تاکہ ہر فروخت مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ہو، بجائے اس کے کہ ایک ساتھ بڑی سپلائی سے مارکیٹ متاثر ہو۔
تجاوزات اور بحالی کی مہم
زمین کا بڑا حصہ برسوں سے قبضے میں رہا ہے، اور سی ڈی اے نے اسے واپس لینے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق نمایاں حصہ پہلے ہی واپس لیا جاچکا ہے، اور سی ڈی اے کی زمین پر قائم 100 سے زائد مستقل عمارتوں کو قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہٹانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
بحالی کی مہم 2025 میں شروع ہوئی۔ گزشتہ سال اس وقت کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ کی قیادت میں ایک بڑے آپریشن میں خاصا حصہ واپس لیا گیا، اور اب ایک اور آپریشن جاری ہے۔ ترنول کے علاقے میں بھاری مشینری کے ڈیلر بھی زمین کے کچھ حصے پارکنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت میں سرکاری زمین کی واپسی کے لیے سی ڈی اے کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
آگے کیا ہوگا
ڈائریکٹر جنرل مقامی منصوبہ بندی اعجاز احمد شیخ نے منصوبے کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے، جس کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آرکیٹیکچر علی عبداللہ کریں گے۔ یہ ڈیزائن پلاٹوں کے سائز، کمرشل ترکیب اور فروخت کے مراحل طے کرے گا۔
اتھارٹی توقع رکھتی ہے کہ آئندہ مہینوں میں منصوبہ لانچ کردیا جائے گا، اور چیئرمین متعلقہ ٹیموں پر تیاریاں جلد مکمل کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ ڈیزائن کی منظوری کے بعد پہلے پلاٹ نیلام کیے جائیں گے، جس سے باقی زمین کی پیشکش سے پہلے مانگ کا اندازہ ہوگا۔

