اسلام آباد: پاکستان نے جمعے کو مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید مذمت کی اور مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے شہری انفراسٹرکچر پر اس حملے کو سنگین اشتعال انگیزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 29 ستمبر کے ڈرون حملے کے تین روز بعد یہ بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے شہری انفراسٹرکچر کے خلاف یہ قابل مذمت حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے گہری تشویش اور رنج کا باعث ہے۔ اسلام آباد نے ان لاپروا کارروائیوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔
سعودی عرب سے مکمل یکجہتی
پاکستان نے سعودی عرب سے غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ، عوام کے دفاع اور زائرین کی سلامتی یقینی بنانے کی سعودی کوششوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
سعودی اتحاد کی رپورٹ
یہ مذمت یمن کے حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی زیر قیادت اتحاد کے ایک روز قبل جاری بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ گروپ نے مدینہ میں ایک پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حملہ کیا ہے جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ اتحاد کے مطابق 29 ستمبر کو صبح 5:11 بجے ڈرون اسٹیشن سے ٹکرایا اور ملبے کے تجزیے سے حوثیوں کے حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث ہونے کا تعین ہوا۔ اتحاد نے بتایا کہ ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہوا مگر بجلی کا وسیع نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔ حوثیوں نے ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے سعودی الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔ اتحاد نے اس حملے کو حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی بار بار کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
ویب ڈیسک

