تھل جیپ ریلی 2026 کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ اب یہ تین روزہ ایونٹ 9، 10 اور 11 اکتوبر کے بجائے 16، 17 اور 18 اکتوبر کو ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے نئی تاریخوں کی منظوری دے دی ہے اور تیاریاں اب نئے شیڈول کے مطابق آگے بڑھیں گی۔
ایونٹ کا دورانیہ وہی تین دن رہے گا، صرف ہفتہ تبدیل ہوا ہے۔ ریلی کا آغاز 16 اکتوبر کو ہوگا اور اختتام 18 اکتوبر کو ہوگا۔
ملتوی کیوں کی گئی؟
منتظمین کے مطابق موسمی حالات اور انتظامی امور کی وجہ سے تاریخیں آگے بڑھائی گئیں۔ اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے موسمی حالات یا کون سے انتظامی مسائل اس فیصلے کی وجہ بنے، اور اس حوالے سے مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔
نئے شیڈول کو ضلعی انتظامیہ کی منظوری حاصل ہے، جو ٹریک کے اطراف سکیورٹی، ٹریفک اور مقامی انتظامات کی ذمہ دار ہے۔ منتظمین اب افتتاحی اور اختتامی تقریبات کی منصوبہ بندی نئی تاریخوں کے حساب سے کریں گے۔
ڈرائیوروں اور شائقین کے لیے کیا مطلب؟
تین روزہ فارمیٹ برقرار رہے گا۔ جن ڈرائیوروں، سپورٹ ٹیموں اور تماشائیوں نے 9 سے 11 اکتوبر کے حساب سے سفر اور رہائش کی بکنگ کرائی تھی، انہیں اپنی تیاریاں ایک ہفتہ آگے بڑھانا ہوں گی۔
ابھی تک روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی شدہ شیڈول جاری نہیں ہوا۔ انفرادی ریسوں، کوالیفائنگ راؤنڈز اور ثقافتی و خاندانی پروگراموں کی تفصیلات بھی سامنے آنا باقی ہیں۔ توقع ہے کہ نئے شیڈول کے تحت تیاریاں زور پکڑنے کے ساتھ ان کا اعلان کردیا جائے گا۔
گیارہویں تھل جیپ ریلی کے بارے میں
اس سال یہ ریلی کا گیارہواں ایڈیشن ہے، جو تھل کے صحرا میں مظفرگڑھ، کوٹ ادو اور لیہ کے اضلاع میں منعقد ہوتا ہے۔ اس کا اہتمام ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن پنجاب (ٹی ڈی سی پی) اور ضلعی انتظامیہ مل کر کرتی ہیں۔
انتظامات کا جائزہ لینے والے اجلاسوں کی صدارت کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے کی تھی، جن میں ریلی روٹ، سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، طبی سہولتوں، پینے کے پانی، صفائی اور رہائش کا جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ ایڈیشنز میں 100 سے زائد ریسرز شریک ہوئے، جن میں نادر مگسی جیسے چیمپئن ڈرائیور بھی شامل تھے، اور یہ ایونٹ پنجاب کے معروف موٹرسپورٹس مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔
پچھلے ایڈیشنز میں ٹریک تقریباً 180 کلومیٹر طویل تھا، جو مظفرگڑھ میں چنگا مانگا ٹیلہ سے شروع ہو کر لیہ کی تحصیل چوبارہ سے گزرتا تھا۔ ریسنگ کے ساتھ ثقافتی پروگرام، خاندانی تقریبات، روایتی کھیل اور موسیقی کی محافل بھی ہوتی ہیں، جن میں خطے بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

