راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو ایک ریٹائرڈ پاک فوج کے جوان کو میڈیا کے سامنے زندہ پیش کر کے ان بھارتی دعوؤں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ وہ شخص بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک کارروائی میں عسکریت پسند کے طور پر مارا گیا ہے۔ ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف راولپنڈی میں پریس کانفرنس میں نمودار ہوئے، جبکہ بھارتی حکام اور میڈیا گزشتہ چند روز سے دعویٰ کر رہے تھے کہ اسی نام کا ایک سابق اسپیشل سروسز گروپ کمانڈو لائن آف کنٹرول کے اس پار مارا گیا ہے۔ آصف نے دعوے کے ہر حصے کی تردید کی۔
بھارتی دعویٰ کیسے سامنے آیا
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے پاکستان کے نقطہ نظر سے واقعات کی ترتیب پیش کی۔ 29 ستمبر کی رات بھارتی فوج کی چنار کور نے کوراگ، یوسمرگ کے عمومی علاقے میں مشترکہ سرچ آپریشن کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جس میں ایک شخص کی ہلاکت کی خبر دی گئی۔ تقریباً سات گھنٹے بعد 30 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پال میدان کے قریب لشکر طیبہ کے دہشت گرد محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی لاش جنگی سازوسامان سمیت برآمد ہوئی ہے۔ اس کے فوراً بعد بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے مبینہ عسکریت پسند کا تفصیلی ذاتی ریکارڈ شائع کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، 2000 میں سروس نمبر PA-3106947 کے تحت پاک فوج میں بھرتی ہوا، حوالدار کے عہدے تک پہنچا اور 2005 میں ایس ایس جی میں شامل ہوا۔ بھارتی میڈیا نے پھر اسے کشمیر میں سرگرم لشکر کے چار رکنی گروپ سے جوڑا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ شناخت مسلسل بدلتی رہی — نامعلوم عسکریت پسند سے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ تک اور پھر پاک فوج کے سابق ایس ایس جی جوان تک — اور یہ بدلتا ہوا بیان خود مشکوک ہے۔
میں زندہ آپ کے سامنے کھڑا ہوں
آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا تعلق ضلع اٹک کے پنڈی گھیب سے ہے اور وہ اہل خانہ کے ساتھ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق دوستوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انہیں بھارتی فوج نے کشمیر میں شہید کر دیا ہے، اور ان کی تفصیلات نشر ہونے کے بعد انہیں بھارتی نمبروں سے کالیں آنے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گھر بیٹھے تھے مگر دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ انہیں کشمیر میں مار دیا گیا ہے، اس لیے انہوں نے اپنی سابق یونٹ اور آئی ایس پی آر کو اطلاع دی تاکہ ریکارڈ درست رہے۔ آصف نے بتایا کہ وہ 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی میں شامل ہوئے اور 18 سال کی سروس کے بعد 2023 میں ریٹائر ہوئے۔
ویب ڈیسک

