ویب ڈیسک: پاکستان اپنی آٹوموبائل صنعت کے لیے ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ آٹوموٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کے تحت کار ساز اور آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کے لیے کہیں زیادہ بلند برآمدی اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی سربراہی میں بین الوزارتی کمیٹی نے پالیسی کے مسودے میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی نے سات وسیع اصولوں پر اتفاق کیا ہے جو آئندہ پانچ سال کے دوران آٹوموبائل شعبے کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
کار سازوں کے لیے لازمی برآمدات
سب سے بڑی مجوزہ تبدیلی اصل سازوسامان بنانے والی کمپنیوں (او ای ایمز) کے لیے لازمی برآمدات ہے۔ فریم ورک کے تحت برآمدی کارکردگی کو قانونی طور پر قابل نفاذ اہداف سے جوڑا جائے گا اور اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد ہوں گے۔
تجویز کے مطابق کار، جیپ اور ایس یو وی بنانے والی کمپنیاں اپنی برآمدات 2026-27 میں صفر سے بڑھا کر 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداواری مالیت کے 12 فیصد تک لے جائیں گی۔ یہ ہدف 2030-31 میں بھی برقرار رہے گا۔ اعداد کے مطابق کار سازوں کو 2027-28 میں تقریباً 160.89 ملین ڈالر، 2028-29 میں 347 ملین ڈالر، 2029-30 میں 558.2 ملین ڈالر اور 2030-31 میں 596.1 ملین ڈالر کی برآمدات کا ہدف مل سکتا ہے۔
ٹریکٹر اور موٹر سائیکلیں بھی شامل
پالیسی صرف مسافر کاروں تک محدود نہیں۔ ٹریکٹر بنانے والوں کی برآمدی شرط 2026-27 میں 5 فیصد سے بڑھ کر 2030-31 تک 15 فیصد ہو سکتی ہے۔ اسی طرح موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا ہدف بھی پالیسی کی مدت میں صفر سے 15 فیصد تک جائے گا۔ سرکاری دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کردہ تخمینوں کے مطابق لازمی او ای ایم برآمدات سے پانچ سال میں مجموعی طور پر تقریباً 2.391 ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔
آٹو پارٹس کا کردار
آٹو پارٹس بنانے والے بھی برآمدی حکمت عملی میں اتنا ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فریم ورک میں 2026-27 کے دوران آٹو پارٹس کی برآمدات تقریباً 240 ملین ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے جو بڑھ کر 2030-31 تک 700 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ پانچ سال میں مجموعی آٹو پارٹس برآمدات تقریباً 2.195 ارب ڈالر ہو سکتی ہیں۔ اس طرح او ای ایمز اور آٹو پارٹس کی مشترکہ برآمدات 2026 سے 2031 کے درمیان تقریباً 4.586 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
صنعت کے تحفظات
اگست میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے آٹوموٹیو صنعت سے پانچ سالہ برآمدی اہداف مقرر کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شعبے کو صرف پاکستانی صارفین تک محدود رہنے کے بجائے ملکی برآمدی معیشت کا حصہ بننا چاہیے۔ آٹوموٹیو شعبہ اڑان پاکستان کے تحت 63 ارب ڈالر کے وسیع برآمدی ہدف میں بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔
تاہم مینوفیکچررز نے پاکستان میں گاڑیوں اور پرزوں کی پیداواری لاگت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے مقامی پرزوں کے تحفظ کے ساتھ اہم خام مال پر کم یا صفر ڈیوٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مناسب معاونت ملنے پر آٹو پارٹس کا شعبہ بالآخر ایک ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی تحقیق میں بھی عالمی آٹوموٹیو سپلائی چین میں پاکستان کی کمزور پوزیشن اجاگر کی گئی ہے۔ ادارے نے مسافر گاڑیوں کی برآمدات کے بجائے آٹو پارٹس کی صنعت پر زیادہ توجہ کی سفارش کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف برآمدی اہداف کامیابی کی ضمانت نہیں۔ مقامی مینوفیکچررز کو مسابقتی بجلی کی قیمتیں، سستی فنانسنگ، قابل اعتماد لاجسٹکس، جدید مشینری، ہنر مند افرادی قوت اور بین الاقوامی معیار کی سند درکار ہوگی تاکہ چین، تھائی لینڈ، ترکی اور بھارت جیسے ممالک کے قائم سپلائرز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

