لاہور: پاکستان نے سیکیورٹی خدشات اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ حساس صورتحال کے باعث 2026 کی ایشین چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارت جانے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی ٹیم کے میچز غیر جانبدار مقام پر کرانے کی باقاعدہ درخواست کر دی ہے۔
ایشین چیمپئنز ٹرافی 24 اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک شیڈول ہے۔ پاکستان کی شرکت اب ایشین ہاکی فیڈریشن کے جواب پر منحصر ہوگی۔
کھلاڑیوں کی حفاظت اولین ترجیح
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے تصدیق کی کہ فیڈریشن نے ایشین ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ رابطہ کر کے پاکستان کے میچز بھارت سے کسی دوسرے مناسب مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
وانی کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ دوطرفہ صورتحال کے جائزے کے بعد کیا گیا، جس میں سیکیورٹی صورتحال نے اہم کردار ادا کیا۔ فیڈریشن اپنے کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کے لیے محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول چاہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی ہاکی مقابلوں میں شرکت کے لیے پرعزم ہے اور بھارت سمیت انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے کسی بھی رکن ملک سے کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم کھلاڑیوں کو بیرون ملک بھیجنے سے قبل مناسب حالات فراہم کیے جائیں۔
کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے
پی ایچ ایف صدر نے کہا کہ کھیل کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ ہاکی حکام پاکستان کے تحفظات پر غور کریں گے۔ غیر جانبدار مقام ایک ممکنہ حل ہو سکتا ہے جس سے ٹیم مقابلے میں شامل رہتے ہوئے سیکیورٹی خدشات سے بچ سکے۔
ایشین ہاکی فیڈریشن کو اب پاکستان کی تجویز کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہے کہ آیا میچز بھارت سے باہر کرائے جا سکتے ہیں۔ تاحال ٹورنامنٹ کے شیڈول میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان کا ہاکی میں طویل اور شاندار ریکارڈ ہے اور قومی ٹیم کی شرکت ٹورنامنٹ کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ پی ایچ ایف کو توقع ہے کہ ہاکی حکام غیر جانبدار مقام کی تجویز پر مثبت غور کریں گے تاکہ کھلاڑیوں کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے پاکستان ٹورنامنٹ کا حصہ رہے۔

