اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے شہریوں کو بڑی سہولت دیتے ہوئے سیلز ٹیکس کی قسطوں میں ادائیگی کی اجازت دے دی ہے۔ اب درآمدی موبائل فون پر لگنے والا مکمل ٹیکس ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے قسطوں میں جمع کرایا جا سکے گا۔
ایف بی آر کے مطابق حکومت نے اس سہولت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس کا اطلاق تجارتی بنیادوں پر درآمد کیے گئے فونز کے ساتھ ساتھ ذاتی استعمال کے لیے لائے گئے موبائل فونز پر بھی ہوگا۔
قانونی طریقہ کار
یہ سہولت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہے۔ ترمیم کے تحت اہل صارفین اپنا سیلز ٹیکس مناسب قسطوں میں تقسیم کر سکیں گے۔ یہ اقدام تقریباً دو ماہ قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس قسط پروگرام کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے لیے اب ایف بی آر نے ضروری قانونی ڈھانچہ فراہم کر دیا ہے۔
اہم شرط برقرار
تاہم حکومت نے قسطوں کی سہولت کے ساتھ ایک اہم شرط بھی عائد کی ہے۔ موبائل فون مالکان کو متعلقہ مالی سال کے اختتام سے قبل سیلز ٹیکس کی مکمل رقم ادا کرنا ہوگی۔ یعنی یہ سہولت ٹیکس کی رقم کم یا ختم نہیں کرتی، بلکہ مالی سال کے دوران ادائیگی کے لیے اضافی وقت اور لچک فراہم کرتی ہے۔
پی ٹی اے کے نظام سے ربط
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس سہولت کو اپنے ڈیوائس رجسٹریشن نظام ڈربز سے منسلک کرے گی۔ اس نظام کے ذریعے حکام موبائل فونز کی شناخت کرتے ہیں اور جانچتے ہیں کہ صارف نے رجسٹریشن اور ٹیکس کی شرائط پوری کی ہیں یا نہیں۔ یہ نظام مقامی نیٹ ورکس پر غیر رجسٹرڈ ڈیوائسز کے استعمال پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے۔
مہنگے اسمارٹ فونز پر بھاری ٹیکس عائد ہوتا ہے جو اکثر مسافروں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے فوری مالی بوجھ بن جاتا ہے۔ قسطوں کی سہولت سے یہ افراد اپنے اخراجات کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گے اور مقررہ مدت میں ادائیگیاں تقسیم کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ 2019 میں ختم کی گئی ٹیکس فری موبائل فون کی سہولت بحال نہیں کرتا۔ جولائی 2019 سے مسافروں کے لیے درآمدی فونز پر ٹیکس ادا کرنا لازمی ہے۔ نیا نظام صرف ادائیگی کے طریقہ کار میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

