واشنگٹن: پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں ممکنہ بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں تجرباتی اینٹی باڈی دوا "گوٹسٹو بارٹ” نے معیاری کیموتھراپی کے مقابلے میں بہتر بقا کے نتائج دکھائے ہیں۔
بائیو این ٹیک کی جاری PRESERVE-003 تحقیق میں اس دوا کو اسکوامس نان اسمال سیل پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں پر آزمایا گیا، جن کا مرض امیونو تھراپی اور کیموتھراپی کے باوجود بڑھ رہا تھا اور جن کے پاس علاج کے محدود آپشنز تھے۔
اہم نتائج
ٹرائل میں 87 مریضوں کو یا تو گوٹسٹو بارٹ یا معیاری دوا ڈوسیٹیکسل دی گئی۔ نتائج کے مطابق گوٹسٹو بارٹ لینے والے مریضوں میں اوسط مجموعی بقا 18.5 ماہ رہی جبکہ ڈوسیٹیکسل گروپ میں یہ 10 ماہ تھی۔ یعنی تقریباً ساڑھے 8 ماہ کا اضافی فرق دیکھا گیا۔
کمپنی کے مطابق 17 جولائی 2026 کو ڈیٹا کے جائزے کے وقت ٹرائل کی اوسط فالو اپ مدت 25.4 ماہ تھی۔ بائیو این ٹیک نے ان نتائج کو اعدادوشماری اور طبی اعتبار سے معنی خیز بہتری قرار دیا ہے۔
ماہرین کی رائے
تحقیق کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر راما بالارمن، جو فلوریڈا کے اوکالا آنکولوجی سینٹر میں میڈیکل آنکولوجسٹ ہیں، نے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ ان کے مطابق امیونو تھراپی کے بعد مرض بڑھنے والے مریضوں کے پاس اکثر محدود آپشنز ہوتے ہیں، اس لیے بقا بڑھانے والے نئے علاج کی ضرورت ہے۔
بائیو این ٹیک کی شریک بانی اور چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر اوزلم تورےسی نے مدافعتی نظام کے کردار کو اجاگر کیا۔ محققین کی امید ہے کہ نئی تھراپیز مدافعتی ردعمل کو دوبارہ فعال کر سکتی ہیں جسے کینسر دبا دیتا ہے۔
مضر اثرات اور احتیاط
تاہم ٹرائل میں نمایاں مضر اثرات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ گوٹسٹو بارٹ لینے والے 45 میں سے 20 مریضوں (44.4 فیصد) میں درجہ 3 یا اس سے زیادہ کے علاج سے متعلق مضر اثرات دیکھے گئے۔ محققین حفاظت کا جائزہ جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ گوٹسٹو بارٹ تاحال تجرباتی دوا ہے اور کیموتھراپی کا منظور شدہ متبادل نہیں۔ PRESERVE-003 کا اہم مرحلہ دنیا بھر کے 160 سے زائد مراکز میں جاری ہے۔ ریگولیٹری حکام معمول کے استعمال کی اجازت سے قبل مکمل شواہد کا جائزہ لیں گے۔

