ریاض: سعودی عرب کے کئی شہروں میں حوثیوں کے تازہ حملوں میں 13 شہری زخمی ہو گئے۔ یمن سے ہونے والے ان حملوں کے بعد سعودی قیادت والے عسکری اتحاد نے جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حملے پیر کے روز خمیس مشیط، ابہا اور طائف کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ سعودی حکام نے واقعات کے بعد صورتحال کی کڑی نگرانی کی۔
علاقائی سلامتی پر تشویش
خمیس مشیط اور ابہا سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع ہیں، اس لیے یمن سے جڑی سیکیورٹی پیش رفت وہاں کے رہائشیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ طائف مغربی سعودی عرب میں اندرون ملک واقع ہے، وہاں حملے کی خبروں نے بھی علاقائی سلامتی کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں توجہ حاصل کی۔
سعودی عرب توانائی کی عالمی منڈی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے مملکت سے جڑی کسی بھی بڑی سیکیورٹی پیش رفت پر فوری بین الاقوامی توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
اہم ملاقاتیں
ان حملوں کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جدہ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی امریکی تعلقات اور وسیع تر سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا۔
رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد مصر کا دورہ بھی کریں گے۔ سعودی عرب اور مصر کے درمیان مضبوط سفارتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اہم عرب و مشرق وسطیٰ امور پر اپنے موقف میں ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
سعودی حکام شہریوں کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی اقدامات مزید مضبوط کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ مملکت کو ماضی میں بھی یمن سے جڑے میزائل اور ڈرون خطرات کا سامنا رہا ہے۔ علاقائی حکومتیں کسی بھی مزید عسکری سرگرمی پر کڑی نظر رکھیں گی۔

