کراچی: ملک کی معروف تاجر تنظیموں نے لاک ڈاؤن کی تجویز سختی سے مسترد کر دی ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تجویز واپس لی جائے اور اخراجات کم کرنے کے دیگر طریقے اختیار کیے جائیں۔
انجمن کے صدر اجمل بلوچ نے کہا کہ تاجر برادری ایک اور لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق تاجر پہلے ہی بجلی کے بلوں، ایندھن کی قیمتوں، کرایوں اور دیگر اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
احتجاج کی دھمکی
اجمل بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے لاک ڈاؤن کا منصوبہ زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی تو تاجر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے مناسب مشاورت کے بغیر پابندیاں عائد کرنے کی ہر کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں اور کاروبار پر مزید بوجھ ڈالنے سے پہلے اپنے اخراجات کا جائزہ لے۔ انہوں نے مفت پیٹرول، بجلی اور گیس کی سہولتوں کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ حکام کو پہلے سرکاری محکموں میں کفایت شعاری اختیار کرنی چاہیے۔
تجویز کا پس منظر
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے ایندھن کے استعمال اور سرکاری سفری اخراجات کم کرنے کی کئی تجاویز کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں قومی توانائی کی کھپت کم کرنے کے آپشنز پر غور کیا گیا۔
ایک تجویز کے مطابق سرکاری اور نجی دفاتر کے لیے چار روزہ ہفتہ وار نظام نافذ کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو دفاتر بند رہیں گے تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم ہو۔ حامیوں کا ماننا ہے کہ کم کام کے دنوں سے ایندھن کی بچت ہوگی۔
تاہم تاجر تنظیموں کو خدشہ ہے کہ کم کام کے دن تجارتی سرگرمیوں، فروخت اور صارفین کی آمدورفت کو متاثر کریں گے۔
حکومتی وضاحت
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے اس مرحلے پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکام توانائی بچت کی وسیع پالیسی تیار کرتے ہوئے سرکاری اخراجات مزید کم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریستوران اور شادی ہال پہلے ہی مقررہ بندش کے اوقات پر عمل کرتے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد معاشی سرگرمی مکمل بند کیے بغیر توانائی کی کھپت کنٹرول کرنا ہے۔
تاجر قیادت کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور تاجر نمائندوں کے درمیان براہ راست مشاورت ہو، معاشی سرگرمی کا تحفظ کیا جائے اور دکانداروں و چھوٹے کاروباروں پر دباؤ بڑھانے والے فیصلوں سے گریز کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے حتمی فیصلے کا اعلان ہونا باقی ہے۔

