تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف نے کہا ہے کہ تہران چین کی جانب سے علاقائی سکیورٹی کے نئے فریم ورک کی تجویز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون سے طویل مدتی استحکام قائم ہو سکتا ہے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
غالباف نے کہا کہ مشترکہ سکیورٹی کے لیے چین کی اپیل ایران کے دیرینہ موقف سے ہم آہنگ ہے۔ ان کے بقول خطے کے ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اپنی سکیورٹی کے معاملات کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے۔
علاقائی ممالک خود فیصلے کریں
ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی کا نظام خطے کے ممالک خود تشکیل دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پڑوسی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوششوں میں شرکت کے لیے تیار ہے، اور باہمی اعتماد و مشترکہ مفادات پر توجہ سے خطہ زیادہ استحکام حاصل کر سکتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب چین نے مشرق وسطیٰ کے لیے سکیورٹی کے نئے نقطہ نظر کو فروغ دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے حال ہی میں مصری قیادت سے بات چیت کے دوران تعاون، مشترکہ سکیورٹی اور طویل مدتی استحکام پر مبنی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا تھا اور چار نکاتی حکمت عملی پیش کی تھی۔
معاشی اور سفارتی تعلقات پر زور
غالباف نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ معاشی اور سفارتی تعلقات مضبوط کریں تاکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ ان کے مطابق مقامی تعاون بیرونی ممالک کی قیادت والے طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر حل فراہم کر سکتا ہے۔
ایران ماضی میں بھی سکیورٹی فیصلوں میں علاقائی کردار کی حمایت کرتا رہا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ پڑوسی ممالک کو علاقائی معاملات کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے اور مکالمے، رابطے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔

