راولپنڈی: سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اتوار 20 ستمبر 2026 کو اڈیالہ جیل میں تازہ طبی معائنہ کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم جیل پہنچی اور ان کی موجودہ صحت کا جائزہ لیا۔
ٹیم میں پمز اور ایک آئی اسپتال کے ماہر ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملہ شامل تھا۔ ڈاکٹر جدید طبی آلات ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے صحت کے کئی بنیادی اشاریوں کی جانچ کی اور بینائی پر خصوصی توجہ دی۔
بلڈ پریشر اور بینائی کی جانچ
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں نے عمران خان کا بلڈ پریشر چیک کیا اور مجموعی جائزے کے حصے کے طور پر آنکھوں کا بھی معائنہ کیا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ماہرین نے معائنے میں حصہ لیا۔ آنکھوں کے ماہرین بھی ٹیم میں شامل تھے کیونکہ پہلے کے طبی جائزوں میں ان کی بینائی کی نگرانی کی جاتی رہی ہے۔
یہ معائنہ حراست کے دوران ہونے والے متعدد طبی جائزوں کی کڑی ہے۔ رواں سال کے اوائل میں ڈاکٹروں نے آنکھوں کی ایک تکلیف کا جائزہ لیا تھا اور علاج کے بعد بہتری کی اطلاع دی تھی۔ اگست میں بھی حکام عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز لے گئے تھے۔
تفصیلی رپورٹ جاری نہیں ہوئی
تاہم رپورٹنگ کے وقت تک حکام نے اتوار کے معائنے کی تفصیلی رپورٹ جاری نہیں کی تھی۔ اس لیے تازہ ترین اطلاعات بنیادی طور پر طبی ٹیم کی آمد اور جائزے کے آغاز کی تصدیق کرتی ہیں۔
عمران خان کا طبی معائنہ عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ان کی صحت ان کے خاندان، سیاسی جماعت اور سرکاری حکام کے درمیان بحث کا موضوع رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ نے پہلے طبی سہولتوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پر انہیں لازمی علاج اور ماہرین تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
ویب ڈیسک

