ویب ڈیسک
اسلام آباد کے سیکٹرز جی 13 اور جی 14 کے رہائشی اس وقت شدید الجھن کا شکار ہیں کیونکہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) دونوں ایک ہی وقت میں ان سے پراپرٹی ٹیکس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
2010 سے اس سیکٹر میں رہائش پذیر سفیر جاوید حفیظ کا کہنا ہے کہ "یہ غیر ضروری دوہراؤ جی 13 اور جی 14 کے رہائشیوں میں الجھن اور بے چینی پیدا کر رہا ہے”۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ایک ہی حکومت کے دو اداروں کے درمیان رابطے کے مکمل فقدان کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک اور رہائشی نے اس عجیب صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر سرکاری محکمے یہ کہہ کر دائرہ اختیار سے انکار کرتے ہیں کہ علاقہ ان کی حدود میں نہیں آتا، لیکن یہاں ٹیکس وصولی کے لیے دونوں ادارے دائرہ اختیار کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کئی رہائشیوں نے ایم سی آئی اور ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے جاری کردہ پراپرٹی ٹیکس نوٹسز کی نقول بھی شیئر کیں۔
تنازع کیسے شروع ہوا
جی 13 اور جی 14 دو دہائیاں قبل اس وقت کے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے تیار کیے تھے۔ 2020 میں فاؤنڈیشن کو اتھارٹی کا درجہ ملا اور اس نے رہائشیوں سے پراپرٹی ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔
رہائشیوں کے مطابق اس کے بعد سی ڈی اے، جو پہلے یہ ٹیکس وصول کرتا تھا، اور ایف جی ای ایچ اے کے درمیان علاقائی جنگ چھڑ گئی۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور وفاقی محتسب دونوں کی رائے تھی کہ ہاؤسنگ اتھارٹی پراپرٹی ٹیکس وصول کر سکتی ہے کیونکہ وہ ان سیکٹرز میں بلدیاتی فرائض انجام دیتی ہے۔
گزشتہ چھ برس سے رہائشی یہ ٹیکس ایف جی ای ایچ اے کو ادا کر رہے ہیں۔ اب سی ڈی اے کی شاخ ایم سی آئی بھی وہی ٹیکس مانگ رہی ہے۔
ناقص سہولتوں کی شکایت
جی 13 کے ایک سرکاری افسر نے کہا کہ "ہم الجھن اور حیرانی کا شکار ہیں”۔ ایک اور رہائشی نے دہرے ٹیکس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی کی سہولتیں بالکل ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق قانون کی پاسداری کرنے والے رہائشی بلدیاتی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کو ٹیکس دے رہے تھے، لیکن پانی کی قلت اور ہاؤسنگ اتھارٹی کے غیر سنجیدہ رویے کے باعث "ٹینکر مافیا بھاری منافع کما رہا تھا”۔
عدالتی مقدمات کی پیروی کرنے والے ایک سینئر رہائشی نے کہا کہ رہائشی، جن میں اکثریت بزرگ شہریوں کی ہے، ان مسائل کے حل کے لیے سرکاری دفاتر اور عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں جو انہوں نے خود پیدا نہیں کیے۔
دونوں اداروں کا موقف
رابطہ کرنے پر ایف جی ای ایچ اے کے افسر فیض عمر سیال نے ڈان کو بتایا کہ دونوں سیکٹرز ایف جی ای ایچ اے کے ہیں اور "ہم ہر قسم کی بلدیاتی سہولتیں فراہم کرتے ہیں اس لیے ٹیکس وصول کرنا ہمارا حق ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ بازی جاری ہے اور ایف جی ای ایچ اے مقدمے کی بھرپور پیروی کر رہا ہے۔
سی ڈی اے/ایم سی آئی کے ڈائریکٹر ریونیو کاشف نیاز نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ ایم سی آئی کو پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ان کے مطابق سہولتوں کی فراہمی کا پراپرٹی ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ خدمات کے لیے الگ چارجز عائد کیے جاتے ہیں۔ تنازع کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کے دفتر نے رہائشیوں کو سہولت دی ہے کہ وہ چاہیں تو ٹیکس ایم سی آئی کو جمع کرائیں اور چاہیں تو ایف جی ای ایچ اے کو، یہ ان کی مرضی ہے۔
واضح رہے کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے بیشتر سیکٹرز کا مالک ہے جبکہ ایف جی ای ایچ اے چھ سیکٹرز کا مالک ہے: تیار شدہ جی 13 اور جی 14، زیر تعمیر ایف 14 اور ایف 15، اور غیر ترقی یافتہ ایف 12 اور جی 12۔ ایم سی آئی 2015-16 میں سی ڈی اے کی شاخ کے طور پر قائم ہوا اور سی ڈی اے کے ساتھ مشترکہ ریونیو ڈائریکٹوریٹ رکھتا ہے۔

