ویب ڈیسک
لاہور کی جوڈیشل مجسٹریٹ نے مصنوعی ذہانت سے رہنمائی لے کر اپنے والد کو زہر دینے کی مبینہ سازش کے الزام میں بہاولپور کے 17 سالہ طالب علم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) نے نوجوان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں پیش کیا۔
مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا ملزم کے والد کو مقدمے پر کوئی اعتراض ہے۔ افسر نے بتایا کہ والد کو کوئی اعتراض نہیں اور نوجوان ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔ والد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ان کا بیٹا بہاولپور میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے اور مختلف قسم کی تحقیق کرتا رہتا تھا۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم کی مزید جسمانی تحویل درکار نہیں۔ اس پر مجسٹریٹ نے نوجوان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے افسر کو مقررہ مدت میں چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔
مقدمے کی تفصیل
این سی سی آئی اے نے نوجوان کو 23 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ ادارے کے مطابق والد سے اختلاف کے بعد اس کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اور اس نے مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ امریکی کرائم ڈرامہ ‘بریکنگ بیڈ’ دیکھنے کے بعد نوجوان کو کیمسٹری میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس نے گھر میں کیمیائی تجربات کے لیے ایک چھوٹی لیبارٹری قائم کر رکھی تھی۔
ترجمان کے مطابق ملزم نے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد حاصل کر کے گھر میں ایک مادہ تیار کیا اور ایک موقع پر اسے اپنے والد کو کھلا بھی دیا، تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔
ناکام کوشش کے بعد نوجوان نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے مزید رہنمائی مانگی کہ وہ کیسے ایسا زہر دے سکتا ہے جس سے اس کے والد کی موت واقع ہو اور پکڑ میں بھی نہ آئے۔
گرفتاری کیسے عمل میں آئی
ترجمان کے مطابق پنجاب این سی سی آئی اے کو ملزم کے بارے میں معلومات ایک خودکار نظام کے ذریعے ملیں۔ اس پر ڈائریکٹر حسام بن اقبال نے تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی۔
ٹیم نے بہاولپور میں کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔ تفتیش کار اب واقعے کے پس منظر، کیمیکلز کی نوعیت اور ملزم کی آن لائن سرگرمیوں کی جانچ کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر بڑھتے خدشات
مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس نقصان اور اموات کے واقعات سے جوڑے جا چکے ہیں جس پر سخت ضابطوں کے مطالبے زور پکڑ رہے ہیں۔ یورپی یونین نے گزشتہ ماہ تاریخی اے آئی قوانین نافذ کرنے کے وسیع اختیارات حاصل کر لیے۔ پاکستان پہلے ہی اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اے آئی کے استعمال کو منظم کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ گزشتہ سال اوپن اے آئی نے اعلان کیا تھا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی میں والدین کے کنٹرول کا اضافہ کرے گا، جب ایک امریکی جوڑے نے کہا تھا کہ اس نظام نے ان کے نوعمر بیٹے کو خودکشی پر اکسایا۔

