برسات کے موسم میں تکیے، کنگھی یا باتھ روم کے فرش پر معمول سے زیادہ بال نظر آنا ایک عام شکایت ہے۔ پاکستان میں مون سون کی زیادہ نمی، پسینہ، بارش اور گرم باہر سے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بار بار آنے جانے سے بالوں کی دیکھ بھال مشکل ہو جاتی ہے اور کھوپڑی کے موجودہ مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا موسم خود مستقل بال گرنے کی وجہ نہیں ہوتا۔ زیادہ ٹوٹنا، کھوپڑی کی جلن، خشکی، اسٹائلنگ کی عادات، غذائیت کی کمی، تناؤ اور بنیادی طبی مسائل وہ عوامل ہیں جو موسمی بال گرنے کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
نمی سے الجھے بال
نمی مون سون میں بالوں کی دیکھ بھال کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بال مرطوب ہوا سے نمی جذب کر لیتے ہیں جس سے وہ الجھے، خشک اور بے ترتیب ہو جاتے ہیں۔ الجھے بالوں کو زور سے کنگھی کرنے سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ بال گرنے جیسا لگتا ہے حالانکہ بال جڑ سے نہیں گر رہے ہوتے۔ اس کے لیے چوڑے دانتوں والی کنگھی استعمال کریں، سروں سے سلجھانا شروع کریں اور گرہوں پر زور نہ لگائیں۔ بالوں کے مطابق کنڈیشنر بھی سلجھانے میں مدد دیتا ہے۔
گیلی کھوپڑی اور دیگر احتیاطیں
بارش میں بھیگنا اچھا لگ سکتا ہے مگر بالوں اور کھوپڑی کو گھنٹوں گیلا چھوڑنا درست عادت نہیں۔ گیلے بالوں کو فوراً باندھنا، ڈھانپنا یا سو جانا نقصان دہ ہے کیونکہ گیلے بال میکینیکل نقصان کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ضروری ہیٹ اسٹائلنگ کم کریں، کھوپڑی صاف رکھیں اور متوازن غذا لیں۔ اگر بال گرنا مسلسل بڑھتا جائے تو طبی معائنہ کرانا بہتر ہے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی بنیادی طبی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

