خریداری کے طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں اور اب صارفین صرف نقد رقم یا روایتی کریڈٹ کارڈ پر انحصار نہیں کرتے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں نے فوری خریداری کے نئے راستے کھولے ہیں جن میں ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں کا ماڈل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، خاص طور پر نوجوان صارفین میں۔
اس ماڈل کے تحت گاہک مصنوعات فوراً خرید لیتا ہے اور رقم قسطوں میں ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے کا اسمارٹ فون خریدنے والا شخص 25 ہزار روپے فوری ادا کر کے بقیہ رقم آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں قسط وار ادا کر سکتا ہے۔ مصنوعات اسی وقت مل جاتی ہے جبکہ ادائیگی آہستہ آہستہ مکمل ہوتی ہے۔
مقبولیت کی وجوہات
روایتی قرضوں کے برعکس اس سہولت میں لمبی دستاویزی کارروائی نہیں ہوتی اور ڈیجیٹل تجربہ تیز تر ہوتا ہے۔ آن لائن خریداری کے فروغ نے بھی تیز اور آسان ادائیگی کے طریقوں کی مانگ بڑھائی ہے، اور آن لائن اسٹورز صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے یہ آپشن پیش کرتے ہیں۔
ماہرین کی تنبیہ
تاہم مالیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ سہولت غیر ضروری اخراجات کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے اور قرض کا چھپا ہوا دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ اگر صارف خطرات کو سمجھے بغیر اسے استعمال کرے تو خریداری آسان بنانے والا یہ طریقہ مالی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ صارفین اپنی ادائیگی کی صلاحیت کا جائزہ لے کر ہی اس سہولت کا فائدہ اٹھائیں۔

