بہت سے لوگ روزانہ تھکاوٹ، بے چینی، بے قراری یا جسمانی کمزوری محسوس کرتے ہیں لیکن کبھی سوچتے نہیں کہ ان مسائل کے پیچھے کسی چھوٹی سی معدنیات کی کمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق میگنیشیم وہ اہم معدن ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ جسم کے سینکڑوں افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔
میگنیشیم پٹھوں، اعصاب، توانائی کی پیداوار، دل کے افعال اور نیند کے معیار کو سہارا دیتا ہے۔ جب اس کی سطح کم ہو جائے تو جسم خبردار کرنے والے اشارے دینا شروع کر دیتا ہے جنہیں اکثر عام تھکاوٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
میگنیشیم کی کمی کی نمایاں علامات
مسلسل تھکاوٹ: بغیر واضح وجہ کے تھکاوٹ محسوس ہونا میگنیشیم کی کمی کی عام علامت ہے۔ میگنیشیم خلیوں میں توانائی کی پیداوار میں کردار ادا کرتا ہے، اور اس کی کمی سے جسم توانائی مؤثر طریقے سے پیدا اور استعمال نہیں کر پاتا۔
پٹھوں میں کھچاؤ: رات کو اچانک ٹانگوں میں کھچاؤ، پٹھوں میں اکڑن یا آنکھ کا پھڑکنا اس کمی کی نشانی ہو سکتی ہے کیونکہ میگنیشیم پٹھوں کو سکڑنے کے بعد پر سکون ہونے میں مدد دیتا ہے۔
نیند کے مسائل: نیند نہ آنا، بار بار جاگنا یا رات بھر بے قراری محسوس ہونا بھی میگنیشیم کی کمی سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ معدن اعصابی نظام کے توازن اور پر سکون نیند میں مددگار ہے، تاہم یہ نیند کی گولی کا متبادل نہیں۔
ذہنی دباؤ اور چڑچڑاپن: میگنیشیم اعصابی نظام کے افعال میں شامل ہے۔ اس کی کمی سے دباؤ کے خلاف حساسیت، چڑچڑاپن اور ذہنی تھکن بڑھ سکتی ہے۔
سر درد اور ہڈیوں کی کمزوری: بار بار سر درد کی شکایت میں غذائی عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح میگنیشیم کیلشیم اور وٹامن ڈی کے نظام کو منظم کر کے ہڈیوں کی مضبوطی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کمی کیوں ہوتی ہے؟
ماہرین کے مطابق جدید خوراک میں پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ اور مغذی غذاؤں کا کم استعمال ایک بڑی وجہ ہے۔ میگنیشیم سے بھرپور غذاؤں میں گری دار میوے، بیج، سبز پتوں والی سبزیاں، پھلیاں، ثابت اناج اور ڈارک چاکلیٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طویل ذہنی دباؤ اور زیادہ پسینہ آنا بھی جسم میں اس معدن کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ سپلیمنٹس شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے کیونکہ ہر شخص کو سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور متوازن خوراک اکثر بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔

