بہت سی خواتین پوری رات کی نیند کے باوجود صبح تھکی ہوئی اٹھتی ہیں۔ دن کا آغاز کم توانائی سے ہوتا ہے اور معمول کے کام بھی بوجھ لگنے لگتے ہیں۔ اکثر اس کی وجہ مصروف معمولات یا ذمہ داریوں کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن مسلسل تھکاوٹ بعض اوقات جسم میں غذائی کمی، ہارمونل تبدیلیوں یا کسی پوشیدہ طبی مسئلے کی علامت ہوتی ہے۔
آئرن کی کمی: سب سے عام وجہ
خواتین میں تھکاوٹ کی ایک بڑی وجہ آئرن کی کمی ہے۔ آئرن ہیموگلوبن بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے جو خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔ آئرن کم ہونے پر جسم کو کم آکسیجن ملتی ہے جس سے کمزوری اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔
ماہواری کے دوران خون کے ضیاع کی وجہ سے خواتین میں آئرن کی کمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ آئرن کی کمی کی علامات میں مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنا، سانس پھولنا اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری شامل ہیں۔ پالک، دالیں، لوبیا، انڈے، گوشت اور میوے آئرن سے بھرپور غذائیں ہیں، تاہم سپلیمنٹ لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
وٹامن ڈی اور ہارمونل تبدیلیاں
وٹامن ڈی کو سن شائن وٹامن کہا جاتا ہے کیونکہ جسم اسے دھوپ سے حاصل کرتا ہے۔ زیادہ وقت گھر یا دفتر کے اندر گزارنے والی خواتین میں اس کی کمی عام ہوتی جا رہی ہے جس سے توانائی میں کمی، پٹھوں کی کمزوری اور جسم میں درد ہو سکتا ہے۔
ہارمونز خواتین کے جسم میں میٹابولزم، نیند اور توانائی سمیت کئی اہم عمل کنٹرول کرتے ہیں۔ ماہواری، حمل، زچگی کے بعد اور مینوپاز کے دوران ہارمونل تبدیلیاں تھکاوٹ، نیند کے مسائل اور موڈ میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
تھائرائیڈ اور ذہنی تھکن
تھائرائیڈ گلینڈ میٹابولزم کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے ہارمون کم بننے کی حالت ہائپوتھائرائیڈزم کہلاتی ہے جس میں جسم کے افعال سست پڑ جاتے ہیں اور مناسب آرام کے باوجود تھکن رہتی ہے۔ وزن بڑھنا، جلد کا خشک ہونا اور سردی زیادہ لگنا اس کی دیگر علامات ہیں۔
اسی طرح ذہنی تھکن بھی توانائی ختم کر دیتی ہے۔ پیشہ ورانہ کام، گھریلو ذمہ داریاں اور خاندانی تقاضے ایک ساتھ نبھانے والی خواتین میں جذباتی تھکن عام ہے۔ چہل قدمی، کھلی فضا میں وقت گزارنا اور نیند کا باقاعدہ معمول اس میں بہتری لا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتوں جاری رہنے والی تھکاوٹ کو معمول نہ سمجھیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

