امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو کی، جس کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے عارضی جنگ بندی پر کام کر رہا ہے۔ سی این این کے مطابق کال صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) شروع ہوئی، جس میں ٹرمپ نے روس سے ممکنہ رعایتیں زیر بحث لائیں، جن میں مقبوضہ علاقوں سے فوجوں کی واپسی بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات میں زمین، توانائی کے منصوبوں اور دیگر وسائل کا بھی احاطہ کیا گیا۔ کریملن نے تصدیق کی کہ پوتن بات چیت کے لیے تیار تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ڈین اسکیوینو نے کہا کہ کال ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی اور مثبت انداز میں آگے بڑھی۔
30 روزہ جنگ بندی کا منصوبہ
گزشتہ ماہ ٹرمپ اور پوتن کی گفتگو کے بعد امریکا نے مذاکرات میں سہولت کے اقدامات کیے تھے، جس کے نتیجے میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے واشنگٹن کا دورہ کیا تھا۔ بعد میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کی قیادت میں مذاکرات کے بعد 30 روزہ جنگ بندی کا منصوبہ تجویز کیا گیا جسے یوکرین نے قبول کر لیا۔
اب امریکا روس کو معاہدے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ ٹرمپ کے الفاظ میں "روس کے پاس تمام لیوریج ہے۔” وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہیں اور ٹرمپ و پوتن کے درمیان بالمشافہ ملاقات بھی زیر غور ہے۔

