اسلام آباد: یوم دفاع پاکستان 6 ستمبر کو ملک بھر میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر وطن کی حفاظت میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں کی بہادری کو سلام پیش کیا گیا۔
دن کا آغاز نماز فجر کے بعد قرآن خوانی اور شہداء کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ ملک بھر میں مذہبی اجتماعات منعقد کیے گئے جن میں وطن کی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پورے ملک کے شہریوں نے یوم دفاع کی تقریبات میں شرکت کی۔
وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی
اسلام آباد میں یوم دفاع کے موقع پر 31 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی کے ذریعے محافظان وطن کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب
کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ پاکستان ایئر فورس اکیڈمی اصغر خان کے کیڈٹس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل حسن فیصل تھے جو اکیڈمی کے آفیسر کمانڈنگ ہیں۔
کراچی میں ساحل سمندر کے قریب ڈیفنس رن کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں خواتین، بچوں، نوجوانوں اور بزرگ شہریوں سمیت مختلف عمر کے افراد نے شرکت کی۔ اس سرگرمی کا مقصد قومی یکجہتی کے ساتھ صحت، حب الوطنی اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔
نشان حیدر کے ہیروز کو قوم کا سلام
یوم دفاع کے موقع پر مسلح افواج کے اہلکاروں نے نشان حیدر پانے والے ہیروز کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ قوم نے کیپٹن راجہ محمد سرور شہید، میجر محمد طفیل شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، سوار محمد حسین شہید اور میجر شبیر شریف شہید کی قربانیوں کو یاد کیا۔
لانس نائیک محمد محفوظ شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید اور ہلال کشمیر پانے والے نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ 6 ستمبر کو قوم 1965 کی جنگ میں مسلح افواج کی لازوال بہادری کی یاد تازہ کرتی ہے۔

