مناسب نیند کے باوجود مسلسل تھکاوٹ، توجہ مرکوز نہ ہونا، چھوٹی باتیں بھول جانا یا ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ — یہ سب وٹامن بی12 کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں جنہیں اکثر لوگ مصروف معمولات یا بڑھتی عمر کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
وٹامن بی12 انسانی جسم کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے جو جسم خود نہیں بنا سکتا۔ یہ صحت مند سرخ خلیات کی تیاری، اعصابی نظام کی دیکھ بھال اور دماغ کے معمول کے افعال میں مدد دیتا ہے۔ جب جسم کو یہ وٹامن کافی مقدار میں نہیں ملتا تو توانائی، دماغ اور مجموعی صحت متاثر ہوتی ہے۔
ابتدائی علامات نظر انداز کیوں ہوتی ہیں؟
وٹامن بی12 کی کمی کی ابتدائی علامات روزمرہ کے مسائل جیسی لگتی ہیں۔ مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، مزاج میں تبدیلی، یادداشت کی کمزوری اور ہاتھ پاؤں میں عجیب سنسناہٹ عام شکایات ہیں۔ لوگ انہیں اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیتے جب تک یہ کام، پڑھائی یا تعلقات پر اثر انداز نہ ہونے لگیں۔
کمی کی وجوہات
وٹامن بی12 بنیادی طور پر حیوانی خوراک میں پایا جاتا ہے اس لیے سبزی خور افراد میں اس کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم خوراک ہی واحد وجہ نہیں — کچھ افراد کافی مقدار میں وٹامن لیتے ہیں مگر ان کا جسم اسے جذب نہیں کر پاتا۔ معدے یا آنتوں کی بیماریاں جذب میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جذب کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے جبکہ بعض ادویات بھی اس عمل کو متاثر کرتی ہیں۔
کمی آہستہ آہستہ بڑھتی ہے
وٹامن بی12 کی کمی اکثر مہینوں بلکہ برسوں میں آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے۔ جسم جگر میں اس وٹامن کو ذخیرہ کرتا ہے اس لیے خوراک کم ہونے کے فوراً بعد علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ شروع میں علامات معمولی ہوتی ہیں پھر بتدریج بڑھتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات کو جلد پہچاننا طویل مدتی صحت کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔ مسلسل تھکاوٹ یا اعصابی علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ اور خون کا ٹیسٹ کرانا بہتر ہے۔
ویب ڈیسک

