واشنگٹن: امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد سے ڈھائی لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ محکمہ خارجہ نے اس ہفتے یہ اعداد جاری کیے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن جانچ مہم کو امریکی تاریخ کی بڑی کارروائیوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہ اعداد اس وقت سامنے آئے ہیں جب امیگریشن سے متعلق نئے اقدامات نافذ ہوئے ہیں۔
اعداد کیا بتاتے ہیں
محکمہ خارجہ کے مطابق ویزے مختلف خلاف ورزیوں پر منسوخ کیے گئے، جن میں ویزا شرائط کی خلاف ورزی، جرائم، امریکہ یا امریکیوں کے خلاف تشدد کی ترغیب، فراڈ، امیگریشن نظام کا غلط استعمال یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جانا شامل ہے۔ مجموعی تعداد میں 2,300 ویزے "برتھ ٹورازم” سے منسلک تھے، یعنی امریکہ جا کر بچے کی پیدائش تاکہ اسے امریکی شہریت مل سکے۔
اگست میں جاری کردہ ایک پہلے تخمینے میں منسوخیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار بتائی گئی تھی۔ ان میں سے بیشتر کیسز قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ٹکراؤ کے بعد سامنے آئے، جن میں حملہ، نشے میں ڈرائیونگ، چوری اور منشیات کے جرائم سب سے عام تھے۔ جنسی حملہ، بچوں سے زیادتی، فراڈ اور خوردبرد کے کیسز بھی شامل تھے۔ 28 ستمبر کو محکمے نے الگ سے 27 افراد کے ویزے منسوخ کیے، جن میں بولیویا، کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو کے موجودہ اور سابق حکام اور ان کے اہل خانہ شامل تھے، جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔
نظام کیسے چل رہا ہے
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے ان اعداد کو تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "ویزا کا ہر فیصلہ قومی سلامتی کا فیصلہ ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ محکمہ درخواست دہندگان کی غیر معمولی پیمانے پر جانچ کر رہا ہے۔ "امریکی ویزا استحقاق ہے، حق نہیں، اور اگر آپ اس استحقاق کی شرائط کی خلاف ورزی کریں گے تو آپ اس سے محروم ہو جائیں گے۔ ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ہر وہ غیر ملکی جو ہماری کمیونٹیز کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جوابدہ نہ ہو۔”
انتظامیہ اب ان 2 لاکھ تک غیر ملکیوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جنہوں نے امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔ یہ منصوبہ 2016 سے 2026 کے درمیان جاری کردہ بی ون اور بی ٹو ویزوں کو ہدف بناتا ہے۔ نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ کا کہنا ہے کہ امریکی "جعلی پناہ کے دعوؤں” سے تنگ آ چکے ہیں، اور ان کے بقول یہ نظام ایسے دعوؤں سے بھر گیا ہے جن کے فیصلے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے مطلب
پاکستانی بھی سخت امریکی اسکریننگ سے متاثر ہونے والی کئی قومیتوں میں شامل ہیں، اور واشنگٹن کا پیغام تمام درخواست دہندگان کے لیے ہے۔ قونصلر افسران کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ ہر فیصلے کو سلامتی کا فیصلہ سمجھیں، جس کا مطلب ہے طویل جانچ اور غلطی کی کم گنجائش۔ امریکی ویزا رکھنے والے ہر شخص کو اس کی شرائط کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے۔ قیام کی مدت سے تجاوز، سفر کے مقصد میں غیر ظاہر شدہ تبدیلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کوئی بھی ٹکراؤ اب مسلسل جانچ کے تحت منسوخی کا باعث بن سکتا ہے۔
ویب ڈیسک

