کراچی: حکومت سندھ نے اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے کے لیے کام کرنے والے غیر رسمی تعلیمی مراکز کو 1000 ڈیجیٹل ٹیبلیٹس تقسیم کر دیے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن نے محکمہ تعلیم کے تحت کراچی کے اسکاؤٹس آڈیٹوریم میں تقسیم کی تقریب منعقد کی۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے مراکز چلانے والی سماجی اور کمیونٹی تنظیموں کے نمائندوں کو ڈیوائسز حوالے کیں۔ جائیکا پاکستان کے چیف ایڈوائزر برائے تعلیم و خواندگی چیہو اوہاشی بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
ٹیبلیٹس کس کام آئیں گے
یہ ٹیبلیٹس براہ راست بچوں کے لیے نہیں بلکہ غیر رسمی تعلیمی مراکز چلانے والے سہولت کاروں کے لیے ہیں۔ وزیر تعلیم کے مطابق ان سے سہولت کار اساتذہ سے رابطہ رکھ سکیں گے، طلبہ کی حاضری ریکارڈ کر سکیں گے، ڈیٹا کا انتظام اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں گے۔ اوہاشی نے کہا کہ ڈیوائسز تدریس، سیکھنے اور نگرانی میں مدد دیں گی اور سہولت کاروں کو تدریسی مواد، آن لائن تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع تک رسائی ملے گی۔
روایتی اسکولوں سے باہر بچوں تک رسائی
سردار علی شاہ نے بتایا کہ اپریل 2025 میں شروع ہونے والے غیر رسمی تعلیمی پروگرام نے چھ اضلاع میں تقریباً ایک لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی مواقع سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پروگرام روایتی اسکولوں میں نہ جا سکنے والے بچوں تک مقامی برادریوں کے ذریعے پہنچتا ہے، جس میں بچیوں اور پسماندہ طبقات کے بچوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام صرف آلات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ 1000 سہولت کاروں اور 1000 تعلیمی مراکز کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ وزیر نے کہا کہ آؤٹ آف اسکول بچے قومی چیلنج ہیں جس کے لیے حکومتوں، سماجی تنظیموں اور مقامی برادریوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
ویب ڈیسک

