آپ پاکستان کے کسی معروف کپڑوں کے اسٹور میں داخل ہوتے ہیں، کئی ہزار روپے کی خریداری کرتے ہیں اور ادائیگی کے وقت کیشیئر پوچھتا ہے: "شاپنگ بیگ چاہیے؟ 30 روپے اضافی۔” اکثر گاہک بغیر سوچے ہاں کہہ دیتے ہیں — 7 ہزار خرچ کرنے کے بعد 30 روپے پر کون بحث کرے؟ لیکن ذرا رکیں۔ جس بیگ کے آپ پیسے دے رہے ہیں اس پر اکثر اسی دکان کا نام اور لوگو نمایاں چھپا ہوتا ہے۔ یعنی آپ نے نہ صرف بیگ خریدا بلکہ اس برانڈ کی مشہوری بھی اپنے خرچ پر کی۔ پشاور کی ایک صارف عدالت کے حالیہ فیصلے نے اس روزمرہ کے معمول کو بالکل نئی روشنی میں رکھ دیا ہے۔
30 روپے کا بیگ 50 ہزار میں پڑا
معاملہ 20 دسمبر 2025 کو شروع ہوا جب شفق عامر نامی صارف نے پشاور میں ایک معروف کپڑا فروش کی دکان سے 7 ہزار روپے کے کپڑے خریدے۔ رسید میں ایک اضافی چارج تھا: شاپنگ بیگ کے 30 روپے۔ رقم معمولی تھی مگر اہم بات یہ تھی کہ بیگ پر کمپنی کا تشہیری لوگو چھپا تھا۔
صارف نے خیبر پختونخوا کنزیومرز پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت صارف عدالت سے رجوع کیا۔ دکان کا مؤقف تھا کہ مفت بیگ دینے کی کوئی پابندی نہیں اور گاہک خود فیصلہ کر سکتا ہے۔ عدالت نے یہ دلیل ان حالات میں تسلیم نہیں کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بیگ دکان کے برانڈ کی تشہیر بھی کر رہا تھا، اس لیے صارف سے اس کی قیمت وصول کرنا غیر منصفانہ تجارتی عمل ہے۔
نتیجہ نمایاں تھا: عدالت نے دکان کو صارف کے 30 روپے واپس کرنے، اسے 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے اور 25 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیا۔ یوں 30 روپے کے تنازع پر 50 ہزار روپے کا ہرجانہ اور جرمانہ عائد ہوا۔
اصل معاملہ 30 روپے کا نہیں، اصول کا ہے
کوئی 30 روپے کے لیے عدالت نہیں جاتا — معاملہ اصول کا ہے۔ گاہک پہلے ہی کمپنی کی مصنوعات خرید چکا ہے، اور دکان کو وہ مصنوعات گاہک تک پہنچانے کا عملی انتظام کرنا ہے۔ جب دکان ایسا بیگ دیتی ہے جس پر اس کا بڑا لوگو، برانڈ نام یا تشہیری پیغام چھپا ہو تو وہ بیگ صرف کپڑے اٹھانے کا کام نہیں کرتا بلکہ کاروبار کی مشہوری بھی کرتا ہے۔ تب یہ سوال پیدا ہوتا ہے: جس برانڈ کو آپ نے پہلے ہی کاروبار دیا، اس کی مشہوری کے پیسے آپ کیوں دیں؟
اگر بیگ پر لوگو نہ ہو تو؟
یہاں غلط فہمی سے بچنا ضروری ہے۔ فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کاروبار کا ہر دوبارہ قابل استعمال بیگ ہمیشہ مفت ہونا چاہیے۔ دکان ایک پائیدار کپڑے کا بیگ الگ مصنوعات کے طور پر بیچ سکتی ہے، اور ماحولیاتی قوانین کے تحت پلاسٹک سے دوری کی ترغیب بھی دی جا سکتی ہے۔ پشاور کا فیصلہ خاص طور پر اس بیگ کے بارے میں تھا جس پر دکان کا تشہیری لوگو نمایاں تھا — یہ فرق اہم ہے۔
پنجاب میں پلاسٹک بیگ پر الگ پابندی
پنجاب کے صارفین کو ایک اضافی تحفظ حاصل ہے۔ پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ 6 ستمبر 2026 سے دکانیں، ریٹیل آؤٹ لیٹس، ریسٹورنٹ اور ہوٹل صارفین سے پلاسٹک شاپنگ بیگ کے الگ پیسے نہیں وصول کر سکیں گے۔ خلاف ورزی پر 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک جرمانہ، سنگین خلاف ورزی پر دکان سیل اور فوجداری کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ البتہ کپڑے یا ماحول دوست دوبارہ قابل استعمال بیگ کے چارجز اس پابندی سے الگ ہیں۔ خلاف ورزی کی شکایت 1373 ہیلپ لائن پر درج کرائی جا سکتی ہے۔
اگلی بار بیگ کے پیسے مانگے جائیں تو کیا کریں؟
کیشیئر سے بحث نہ کریں — وہ صرف کمپنی کی پالیسی پر عمل کر رہا ہوتا ہے۔ نرمی سے پوچھیں: کیا بیگ کا چارج لازمی ہے؟ کیا اس بیگ پر کمپنی کا لوگو یا تشہیر چھپی ہے؟ اگر بیگ کی ضرورت نہ ہو تو انکار کر دیں۔ اگر چارج ادا کرنا پڑے تو رسید ضرور رکھیں — رسید ثابت کرتی ہے کہ بیگ کا الگ چارج لیا گیا۔ بیگ کی تصویر بھی بنا لیں، خاص طور پر اگر اس پر برانڈنگ نمایاں ہو، اور دکان کا نام، مقام اور تاریخ نوٹ کر لیں۔
یاد رکھیں، صارف کے حقوق کا تعلق امیر یا غریب ہونے سے نہیں۔ کمپنی کو بل میں شامل ہر چارج کی وضاحت کرنی چاہیے۔ اور تیس روپے معمولی ضرور لگتے ہیں، مگر لاکھوں گاہکوں سے وصول کیے گئے تیس تیس روپے کروڑوں بن جاتے ہیں — یہی وجہ ہے کہ چھوٹی رقم پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔
ویب ڈیسک

