پنڈی سگنل فری کوریڈور کا دائرہ گھٹ گیا
راولپنڈی کے سگنل فری کوریڈور منصوبے کے تحت انڈرپاسز کی تعداد تین سے گھٹا کر دو کر دی گئی ہے۔ ریس کورس اور چیرنگ کراس انڈرپاسز کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ نظرثانی شدہ منصوبہ نومبر کے آخر تک مکمل کرنے کا شیڈول رکھا گیا ہے۔ آرمی قبرستان چوک پر تجویز کردہ انڈرپاس اسکیم سے نکال دیا گیا ہے، اور نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں دی گئی۔
نظرثانی شدہ لاگت
ریس کورس انڈرپاس کی لاگت 1.36 ارب روپے سے زائد بڑھ کر 3.09 ارب سے 4.459 ارب روپے ہو گئی ہے۔ چیرنگ کراس انڈرپاس کی لاگت بھی 901.6 ملین روپے بڑھ کر 2.58 ارب سے 3.49 ارب روپے ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آرمی قبرستان چوک کا انڈرپاس ختم کرنے سے مجموعی لاگت میں 1.0842 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔
آرمی قبرستان چوک کو ڈبل روڈ کے ذریعے پشاور روڈ سے جوڑ دیا گیا ہے جبکہ چوک کی ازسر نو تشکیل سے ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ذرائع کے مطابق انڈرپاس ختم کرنے سے نہ صرف لاگت کم ہوئی بلکہ چوراہے کو وسیع کر کے پشاور جانے والی ٹریفک کو بغیر سگنل دائیں موڑ کی سہولت بھی دی گئی ہے — یعنی منصوبہ سازوں نے مکمل انڈرپاس کے بجائے آزاد دائیں موڑ والے ازسر نو تشکیل شدہ چوراہے کا انتخاب کیا ہے۔
کوریڈور کہاں تک پہنچا
کوریڈور منصوبہ پشاور روڈ پر واقع ہے — راولپنڈی کی اہم شاہراہ اور شہر سے موٹروے نیٹ ورک کا اصل راستہ۔ روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے وعدہ یہ ہے کہ شہر کے مصروف ترین چوراہوں سے بغیر سگنل رکے گزر سکیں۔ کچہری چوک (اب مارکہ حق اسکوائر)، صدر ٹی ایم اے چوک اور کے پی او چوک پر انڈرپاسز اور فلائی اوورز پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔ ریس کورس اور چیرنگ کراس انڈرپاسز کی تکمیل کے بعد موٹروے چوک سے چنگی نمبر 2 تک سگنل فری راستہ فراہم ہوگا۔
نظرثانی شدہ ڈیڈلائن نومبر کا آخر ہے۔ لاگت میں پہلے ہی دو بار اضافے کے بعد اب توجہ اس پر ہے کہ باقی دونوں انڈرپاسز نئے شیڈول پر مزید لاگتی اضافے کے بغیر مکمل ہوتے ہیں یا نہیں۔ پی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری کے بعد آخری انتظامی رکاوٹ دور ہو چکی ہے، اس لیے دباؤ اب ٹھیکیداروں پر ہے۔

