کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے انتظامی تنظیم نو کے تحت نیا تنظیمی ڈھانچہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئی انتظامیہ نے کئی اہم عہدوں میں تبدیلیاں کی ہیں اور قومی ایئرلائن میں رپورٹنگ کے نظام پر نظرثانی کی ہے۔
نئے ڈھانچے میں پہلی بار چیف ایئروائردینیس کا عہدہ قائم کیا گیا ہے جبکہ چیف ٹیکنیکل آفیسر کے عہدے کی جگہ چیف آف مینٹیننس آپریشنز کا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے۔
چیف ایگزیکٹو براہ راست بورڈ کو جوابدہ
نئے نظام کے تحت چیف ایگزیکٹو آفیسر براہ راست بورڈ آف ڈائریکٹرز کو رپورٹ کریں گے۔ کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور برانڈ اب براہ راست سی ای او کو رپورٹ کریں گے جبکہ اسپیشل اسسٹنٹ ٹیکنیکل اور کمپلائنس افسران بھی سی ای او کی نگرانی میں کام کریں گے۔
آپریشنل شعبوں کی تنظیم نو
چیف آپریٹنگ آفیسر جنرل مینیجر فیسلٹیز، مسافر ہینڈلنگ اور دیگر متعلقہ ڈویژنوں کی نگرانی کریں گے۔ چیف فلائٹ آپریشنز ڈویژن پانچ چیف پائلٹس کی نگرانی کرے گا۔ تجارتی ڈھانچے میں چھ جنرل مینیجرز چیف کمرشل آفیسر کو رپورٹ کریں گے جن میں جنرل مینیجر مسافر سیلز بھی شامل ہیں۔
مینٹیننس اور ایئروائردینیس الگ الگ
سب سے بڑی تبدیلیوں میں ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال اور ایئروائردینیس کی ذمہ داریوں کو الگ الگ قیادت میں تقسیم کرنا شامل ہے۔ پانچ چیف انجینئرز چیف آف مینٹیننس آپریشنز کے ماتحت کام کریں گے جبکہ دو چیف انجینئرز نئے قائم کردہ چیف آف ایئروائردینیس کو رپورٹ کریں گے۔
مالیات، افرادی قوت اور ٹیکنالوجی
تین جنرل مینیجرز براہ راست چیف فنانشل آفیسر کو رپورٹ کریں گے جو فنڈز، ریونیو اکاؤنٹنگ اور بجٹنگ کی نگرانی کریں گے۔ چیف ہیومن ریسورسز آفیسر چھ جنرل مینیجرز کی نگرانی کریں گے جبکہ پرنسپل ٹریننگ سینٹر بھی ایچ آر قیادت میں کام کرے گا۔ آئی ٹی آپریشنز، ڈیجیٹل سروسز اور انفراسٹرکچر چیف انفارمیشن آفیسر کے ماتحت رکھے گئے ہیں۔
چیف سپلائی چین آفیسر خریداری، سپلائی چین اور کنٹریکٹ مینجمنٹ کی نگرانی کریں گے جبکہ چیف پائلٹ سیفٹی چیف سیفٹی آفیسر کے ماتحت کام کریں گے۔ انتظامیہ کے مطابق نیا ڈھانچہ ذمہ داریوں کو واضح کرے گا اور نگرانی مضبوط بنائے گا۔

