لندن: یورپی ممالک کی جانب سے ڈیزل اور خام تیل کے اضافی ذخائر جاری کرنے پر غور کی خبروں کے بعد جمعے 2 اکتوبر کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً تین فیصد کمی ہوئی، جس سے عالمی ایندھن منڈی میں تنگی کے خدشات کم ہوئے۔ برینٹ خام تیل 2.83 ڈالر یعنی 2.77 فیصد گر کر 99.48 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 3.35 ڈالر یعنی 3.61 فیصد کمی کے ساتھ 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ ڈیزل کے بینچ مارک یورپی گیس آئل فیوچرز پانچ فیصد سے زائد گر کر 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن پر آ گئے۔
ہفتہ وار کمی کا رجحان
دونوں بینچ مارکس ہفتہ وار کمی کی جانب بڑھ رہے ہیں؛ برینٹ اس ہفتے اب تک تقریباً 4.7 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 3.1 فیصد نیچے ہے۔ کمی کی وجہ جمعے کو یورپی یونین میں فرانسیسی تجویز پر بحث بنی: یورپی ذخائر سے 5 کروڑ بیرل ڈیزل جاری کیا جائے اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ارکان سے 5 کروڑ بیرل خام تیل جاری کرنے کو کہا جائے۔ رائٹرز سے بات کرتے ہوئے مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ اقدام امریکہ کے یورپ پر دباؤ کا جواب ہے کہ مزید سپلائی کھولی جائے اور بڑھتی ایندھن قیمتوں کو نیچے لایا جائے۔ سیکسو بینک کے ہیڈ آف کموڈٹی اسٹریٹیجی اولے ہینسن نے کہا کہ ایندھن اور خام تیل کے ذخائر جاری کرنے پر یورپی ممالک میں بحث کے باعث پورا توانائی کمپلیکس نیچے آیا ہے۔
ڈیزل کیوں دباؤ کا مرکز ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل دباؤ اب خام تیل کی سپلائی پر نہیں بلکہ ریفائنڈ مصنوعات پر ہے۔ اولے ہینسن نے کہا کہ توانائی منڈی میں بنیادی تناؤ خام تیل کی دستیابی نہیں رہا — مشرق وسطیٰ سے بہاؤ بحال ہو رہا ہے — بلکہ ریفائنڈ مصنوعات کی سپلائی ہے، جو مشرق وسطیٰ اور روس میں ریفائنری صلاحیت اور پیداوار میں کمی سے محدود ہے۔ اس سے قبل رائٹرز کی خبر کے بعد قیمتیں بڑھی تھیں کہ چینی ریفائنریوں نے گھریلو ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے اکتوبر میں تیل مصنوعات کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔
آگے کیا ہوگا
بارکلیز کے مطابق پائپ لائن بائی پاس سمیت خلیج مشرق وسطیٰ سے تیل کا بہاؤ بحال ہو رہا ہے، تاہم ذخائر بدستور گھٹ رہے ہیں۔ بینک نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ کی پیش گوئی 20 ڈالر بڑھا کر 115 ڈالر فی بیرل کر دی، جبکہ 2026 کی پیش گوئی 100 ڈالر کر دی گئی ہے۔
ویب ڈیسک

