ایپل کے نئے فلیگ شپ فون آئی فون 18 پرو کے صارفین کو ایک اور ابتدائی مسئلے کا سامنا ہے؛ متعدد مالکان ایئرپیس اسپیکر سے غیر معمولی چٹخنے یا پھٹنے جیسی آواز کی شکایت کر رہے ہیں۔ میک رومرز فورمز اور ریڈٹ پر سامنے آنے والی شکایات میں خریدار عام استعمال کے دوران بے ترتیب کلکس، ٹکس اور چٹخنے کی آوازیں بیان کر رہے ہیں۔ آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس دونوں متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ فون 18 ستمبر 2026 کو فروخت کے لیے پیش ہوئے تھے، جن کی قیمت پرو کے لیے 1,199 ڈالر اور پرو میکس کے لیے 1,299 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، اور لانچ کے دو ہفتوں میں شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔
صارفین کیا سن رہے ہیں
آواز کو کالز کے لیے استعمال ہونے والے چھوٹے اسپیکر سے آنے والی مدھم مگر مسلسل چٹخنے یا پھٹنے کی آواز قرار دیا گیا ہے۔ بعض صارفین اسے جامد شور سے تشبیہ دیتے ہیں تو بعض بے ترتیب ٹک ٹک کہتے ہیں۔ انداز سے لگتا ہے کہ مسئلہ چند بدقسمت یونٹس تک محدود نہیں؛ بعض خریداروں نے فون واپس کر کے جو متبادل ڈیوائس لی، اس میں بھی وہی آواز آئی، جو انفرادی مینوفیکچرنگ خرابی کے امکان کو کمزور کرتی ہے۔
عجیب محرکات
مسئلے کو عجیب تر بنانے والی بات یہ ہے کہ آواز کب سنائی دیتی ہے۔ صارفین کے مطابق ویب سائٹس اسکرول کرتے، نوٹیفکیشن موصول ہوتے، ٹائپنگ یا کال کے دوران یہ آواز آتی ہے۔ ایئرپلین موڈ آن آف کرنے اور اسکرین کی روشنی تیزی سے بدلنے سے بھی یہ شروع ہو جاتی ہے، اور کئی کیسز میں کوئی آڈیو نہ چل رہا ہو تب بھی چٹخنا سنائی دیتا ہے۔
سافٹ ویئر یا ہارڈ ویئر؟
ایپل نے 28 ستمبر کو آئی او ایس 27.0.1 جاری کیا تھا تاکہ بعض یونٹس میں فیس آئی ڈی کے ازخود ری اسٹارٹ ہونے کا مسئلہ حل ہو سکے، مگر اس اپ ڈیٹ کے اجرا نوٹس میں اسپیکر کے مسئلے کا کوئی ذکر نہیں اور صارفین کے ابتدائی تاثرات بتاتے ہیں کہ اس سے چٹخنے میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اگر وجہ سافٹ ویئر ہے تو مستقبل کی اپ ڈیٹ اسے دکان جائے بغیر حل کر سکتی ہے؛ اگر ہارڈ ویئر ہے تو معاملہ کہیں پیچیدہ ہے۔ ایپل نے ان رپورٹس پر تاحال عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور مسئلے کا باضابطہ اعتراف بھی موجود نہیں۔ یہ فون کا تیسرا ابتدائی مسئلہ ہے — فیس آئی ڈی ری اسٹارٹ بگ اور اے ٹی اینڈ ٹی کے نیٹ ورک پر بعض پرو میکس صارفین کی کنیکٹیویٹی شکایات کے بعد۔ لانچ ڈے کے خریداروں کے لیے ایپل کی 14 روزہ واپسی کی مدت ختم ہو رہی ہے، اس لیے متاثرہ مالکان کے سامنے انتخاب ہے: فون واپس کریں یا رکھ کر سافٹ ویئر حل کی امید رکھیں۔
ویب ڈیسک

