کراچی: سیریبرل پالسی کے باعث ہاتھوں سے لکھنے سے محروم کراچی کی نوری نے ہمت نہیں ہاری۔ میٹرک میں اے گریڈ حاصل کرنے والی نوری آج ناک سے موبائل فون چلا کر آن لائن ڈس ایبلٹی ایڈوائزر کے طور پر دیگر معذور افراد کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
نوری اپنی کہانی کا آغاز ان الفاظ سے کرتی ہیں: السلام علیکم پیارے دوستو، کیا آپ میری کہانی سنو گے؟ ان کی زندگی عزم، خاندانی تعاون اور ہر شخص کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع دینے کی اہمیت کی عکاس ہے۔
بچپن میں بیماری کی تشخیص
نوری کے اہل خانہ کے مطابق پیدائش کے وقت کوئی تشویش نظر نہ آئی، تاہم تقریباً چھ ماہ کی عمر میں تیز بخار کے بعد ان کی جسمانی نشوونما میں تبدیلیاں نمایاں ہونے لگیں۔ بعد ازاں ان میں سیریبرل پالسی کی تشخیص ہوئی جس کے باعث ان کے ہاتھوں پر قابو متاثر ہوا۔
اہل خانہ نے کئی سال تک کراچی کے آغا خان ہسپتال سے علاج اور طبی رہنمائی حاصل کی۔ نوری کے مطابق بعض ڈاکٹروں نے مایوس کن توقعات ظاہر کیں جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ وہ اپنی رفتار سے نشوونما کے مراحل طے کر سکتی ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے غیر یقینی صورتحال کو ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں بننے دیا اور علاج و فزیوتھراپی کا سلسلہ جاری رکھا۔
تعلیم کا سفر
الشفا ٹرسٹ میں نوری کو اسپیچ تھراپی، فزیوتھراپی اور تعلیم کی سہولت ملی۔ انہوں نے وہاں تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی اور اکثر جماعت میں اول آتی رہیں۔ ان کی کارکردگی نے ثابت کیا کہ جسمانی محدودیت سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کا تعین نہیں کرتی۔
بعد ازاں انہوں نے مائی لٹل ورلڈ اسکول میں آٹھویں جماعت تک تعلیم جاری رکھی۔ ہاتھوں پر قابو نہ ہونے کے باعث لکھنا مشکل تھا، تاہم اساتذہ نے عملی تعاون کیا۔ نوری جواب بول کر سناتیں اور اساتذہ انہیں لکھ لیتے۔ جوابات، علم اور محنت ہمیشہ ان کی اپنی رہی۔
میٹرک میں اے گریڈ
نوری نے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر میٹرک کے امتحانات دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق بورڈ نے ان کے بولے ہوئے جوابات قلمبند کرنے کے لیے ایک رائٹر فراہم کیا۔ اس سہولت کے ساتھ انہوں نے میٹرک میں اے گریڈ حاصل کیا۔
یہ نتیجہ صرف تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ برسوں کے علاج، تعلیم، خاندانی حوصلہ افزائی اور ان اساتذہ و اداروں کے تعاون کا ثمر تھا جنہوں نے ان کی صلاحیت کو پہچانا۔
ناک سے موبائل فون کا استعمال
ٹچ اسکرین کو ہاتھوں سے چلانا ان کے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے نوری نے ناک سے موبائل فون چلانا سیکھا۔ ان کے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ رابطے، تعلیم اور آن لائن دنیا میں شرکت کا عملی ذریعہ ہے۔ فون ان کی خودمختاری کا ذریعہ بن گیا۔
ڈس ایبلٹی ایڈوائزر کے طور پر کام
تقریباً ایک سال قبل نوری نے آن لائن ڈس ایبلٹی ایڈوائزر کے طور پر کام شروع کیا۔ وہ اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں دیگر معذور افراد کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور مدد کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خودمختاری کا مطلب تعلیم، رابطہ، آمدن، اعتماد اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا ہے۔
معاشرے کے رویوں کا سامنا
نوری کے مطابق انہیں اور ان کے اہل خانہ کو گھورنے، نامناسب تبصروں اور تکلیف دہ رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کی حمایت نے انہیں جذباتی طور پر مضبوط بنایا اور اجنبیوں کی رائے کو ان کی قدر کا تعین نہیں کرنے دیا۔
ان کا پیغام ہے کہ معذور شخص سے براہ راست بات کی جائے، مدد کی پیشکش سے پہلے پوچھا جائے، یہ نہ سمجھا جائے کہ جسمانی معذوری ذہانت پر اثر انداز ہوتی ہے، اور سب سے بڑھ کر معذوری سے پہلے انسان کو دیکھا جائے۔

