واشنگٹن: رات کو گاڑی چلاتے ہوئے تیز ہیڈلائٹس کی چکاچوند سے پریشان افراد کے لیے ایک نیا علاج امید کی کرن بن سکتا ہے۔ امریکی بایوٹیکنالوجی کمپنی اوپس جینیٹکس کے تیار کردہ نائٹ ویژن آئی ڈراپس نے فیز 3 کے کلینیکل ٹرائلز میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔
آزمائش میں 145 افراد شامل تھے جنہیں کم روشنی میں دیکھنے میں دشواری تھی۔ شرکا کو روزانہ 0.75 فیصد فینٹولامین والے قطرے 8 یا 15 دن تک دیے گئے، جبکہ ایک گروپ کو موازنہ کے لیے پلیسیبو دیا گیا۔
نتائج کیا نکلے؟
8 دن بعد دوا استعمال کرنے والے 13 فیصد افراد کی نظر میں آنکھوں کے چارٹ پر کم از کم تین لائنوں (تقریباً 15 اضافی حروف) کی بہتری آئی، جبکہ پلیسیبو گروپ میں یہ شرح صرف 3 فیصد رہی۔ 15 دن بعد یہ شرح بڑھ کر 21 فیصد ہو گئی۔
علامات کی شدت ناپنے کے پیمانے (1 سے 7) پر علاج پانے والوں کا اوسط اسکور 8 دن بعد 4.3 اور 15 دن بعد 3.3 رہا، جبکہ پلیسیبو گروپ میں یہ اسکور بالترتیب 4.6 اور 4.3 رہا۔
قطرے کیسے کام کرتے ہیں؟
محققین کے مطابق فینٹولامین آنکھ کی پتلی کو معتدل طور پر چھوٹا کرتا ہے، جس سے آنکھ روشنی کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتی ہے۔ یہ اثر کم از کم 20 گھنٹے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ کئی شرکا میں لیزک سرجری کے بعد رات کی نظر کے مسائل پیدا ہوئے تھے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس علاج کو فاسٹ ٹریک کا درجہ دے رکھا ہے، تاہم یہ منظوری نہیں ہے۔ محققین کے مطابق یہ اب بھی ایک تجرباتی علاج ہے اور عام استعمال سے پہلے ضابطے کے مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔

