ویب ڈیسک: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ نائیکوپ کی تجدید کے لیے پاکستان آنا ضروری نہیں۔ نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے اہل درخواست دہندگان اپنے ملک میں بیٹھے نیشنل آئیڈینٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (نائیکوپ) کی تجدید کرا سکتے ہیں۔
نائیکوپ بیرون ملک رہنے والے اہل پاکستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نائیکوپ رکھنے والے پاکستانی ویزے کے بغیر پاکستان داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ ان دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو غیر ملکی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں۔
آن لائن درخواست کا طریقہ
سب سے پہلے نادرا کی سرکاری پاک آئی ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اکاؤنٹ بنائیں یا سائن ان کریں۔ شناختی دستاویز کے سیکشن میں نائیکوپ کی سروس منتخب کریں — اگر کارڈ کی میعاد ختم ہو رہی ہے اور بنیادی معلومات میں کوئی تبدیلی نہیں تو تجدید (رینیول) کا آپشن چنیں۔
اپنے موجودہ کارڈ کی تفصیلات احتیاط سے درج کریں۔ نام، تاریخ پیدائش اور دیگر معلومات آپ کے نادرا ریکارڈ سے مطابقت رکھنی چاہئیں۔ پاک آئی ڈی اسمارٹ فون کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق، لائیو تصویر، ڈیجیٹل دستخط، دستاویزات اپ لوڈ، آن لائن ادائیگی اور درخواست کی ٹریکنگ کی سہولت دیتی ہے۔ آخر میں فیس ادا کر کے درخواست جمع کرائیں اور ٹریکنگ آئی ڈی سنبھال کر رکھیں۔
2026 میں نائیکوپ کی فیس
نادرا فیس کو جغرافیائی زونز میں تقسیم کرتا ہے۔ زون اے (امریکا اور یورپ) کے لیے اسمارٹ نائیکوپ تجدید کی موجودہ فیس:
نارمل: 39 امریکی ڈالر (31 دن) — ارجنٹ: 57 ڈالر (23 دن) — ایگزیکٹو: 75 ڈالر (9 دن)
زون بی (مشرق وسطیٰ اور افریقہ) کے لیے: نارمل 20 ڈالر (31 دن) — ارجنٹ 30 ڈالر (23 دن) — ایگزیکٹو 40 ڈالر (9 دن)
ادائیگی سے پہلے نادرا کی تازہ ترین فیس شیڈول ضرور دیکھیں کیونکہ فیس اور کرنسی تبدیلی بدل سکتی ہے۔ بیرون ملک کارڈ کی ترسیل کے اخراجات بھی ملک کے حساب سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
اہلیت اور مدت
نائیکوپ بیرون ملک رہنے یا کام کرنے والے پاکستانی شہریوں، پاکستان کی تسلیم شدہ دوہری شہریت رکھنے والوں اور بیرون ملک پیدا ہونے والے اہل بچوں کو جاری کیا جا سکتا ہے۔ بالغ افراد کے لیے نائیکوپ کی مدت 10 سال ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ نائیکوپ اور پاکستانی پاسپورٹ مختلف دستاویزات ہیں — پاسپورٹ سفری دستاویز ہے جبکہ نائیکوپ شناخت اور قومیت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح نائیکوپ اور پی او سی (پاکستان اوریجن کارڈ) میں بھی فرق ہے؛ پی او سی ان غیر ملکیوں کے لیے ہے جو پاکستانی شہری نہیں۔
دھوکے سے بچیں
صرف نادرا کی سرکاری ویب سائٹ اور پاک آئی ڈی ایپ استعمال کریں۔ واٹس ایپ یا فیس بک پر تیز منظوری کا وعدہ کرنے والے کسی نامعلوم ایجنٹ کو اپنے پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی تصاویر یا ادائیگی کبھی نہ بھیجیں۔

