میانمار کی ریاست رخائن کے قصبے کیاک تاؤ میں بازار کے قریب بمباری میں کم از کم 33 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ پیر کو دوپہر کے وقت ہوا اور اسے ملک کی خانہ جنگی کے مہلک ترین فضائی حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
علاقے پر قابض باغی گروہ اراکان آرمی کے مطابق ایک لڑاکا طیارے نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب بازار کے پاس دو بم گرائے۔ گروہ نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
کیاک تاؤ میں کیا ہوا
کیاک تاؤ شمالی رخائن کا ایک دریائی قصبہ ہے، جو مغربی میانمار میں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں کا بازار خطے کا مرکزی تھوک مرکز ہے، جہاں ریاست بھر سے تاجر اور خریدار آتے ہیں۔ حملہ دوپہر کے وقت ہوا جب بازار دکانداروں، خریداروں اور راہگیروں سے بھرا تھا۔ عمارتوں میں آگ لگ گئی، گاڑیاں تباہ ہوئیں اور قریبی پل کا ایک حصہ بھی ٹوٹ گیا۔
رخائن کے سینئر ریسکیو اہلکار وائی ہن آنگ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا: "یہ مقام لڑائی سے کافی دور ہے اور اس کا تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ رخائن کے شدید ترین فضائی حملوں میں سے ایک ہے۔” رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
میانمار کی فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ماضی میں اس کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ "شہری نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط” برتتی ہے اور صرف جائز فوجی اہداف کو نشانہ بناتی ہے۔
نہ ختم ہونے والی جنگ
یہ بمباری میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے جمہوریت نواز اور نسلی مسلح گروہوں کے خلاف فضائی حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ آنگ سان سوچی کی قیادت والی منتخب حکومت کا فروری 2021 میں تختہ الٹنے کے بعد سے ملک بدامنی کا شکار ہے، اور مزاحمت متعدد محاذوں پر لڑی جانے والی خانہ جنگی میں بدل چکی ہے۔
رخائن کی نسلی اقلیت کے لیے خودمختاری کے خواہاں اراکان آرمی نے نومبر 2023 میں کارروائی شروع کی تھی اور تب سے ایک اہم فوجی ہیڈکوارٹر سمیت ریاست کے 17 میں سے 14 قصبوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ فوج نے رخائن میں تجارتی راستے محدود کر کے شہریوں کے لیے خوراک کی قلت بڑھا دی ہے۔ فوج کے سابق سربراہ صدر من آنگ ہلائنگ اپریل میں فوج کی حمایت یافتہ پارلیمنٹ سے منتخب ہوئے، جس سے پانچ سالہ فوجی حکمرانی پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہوئی۔ باغی اتحادوں کے ہاتھوں علاقے کھونے پر فضائی طاقت جنتا کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔
پاکستان کے لیے کیوں اہم
رخائن وہی ریاست ہے جہاں سے 2017 میں لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش فرار ہوئے تھے، اور نئی لڑائی سے نقل مکانی کے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان روہنگیا کے حق میں طویل عرصے سے آواز اٹھاتا آیا ہے اور رخائن کی صورتحال کو گہری نظر سے دیکھتا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ میانمار کی جنگ کی بھاری قیمت شہری ادا کر رہے ہیں، اور پیر کی بمباری پر حقوق کے گروہوں اور علاقائی حکومتوں کی تازہ مذمت متوقع ہے۔

