اسلام آباد: صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے تیل بردار جہاز ایم ٹی آنر 25 کے چار پاکستانی ملاح کل ہفتے کو کراچی پہنچیں گے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو اعلان کیا کہ یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی کو دفتر خارجہ اور جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی مسلسل کوششوں کے بعد بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ یہ اپریل میں جہاز پر قبضے کے بعد زندہ بچ جانے والے عملے کی پہلی وطن واپسی ہے۔
شہید ملاحوں کی میتوں کی وطن واپسی
اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ قزاقوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے تین پاکستانی ملاحوں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی میتیں بھی پاکستان لائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام قانونی اور دیگر رسمی کارروائیوں کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ عمل جلد مکمل ہو۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انتہائی تکلیف دہ وقت سے گزر رہے ہیں۔
تین ملاح تاحال جہاز پر موجود
تین مزید پاکستانی ملاح عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین کپتان سمیت تاحال جہاز پر موجود ہیں۔ ڈار نے کہا کہ دوست ممالک سے رابطے کے ذریعے ان کی بحفاظت بازیابی اور جلد از جلد وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارت خارجہ اس معاملے پر پوری طرح متوجہ ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔
جہاز پر قبضے کا پس منظر
مسلح قزاقوں نے 21 اپریل کو صومالیہ کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب پلاؤ کے پرچم والے اس تیل بردار جہاز پر قبضہ کیا تھا۔ جہاز صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کو تیل پہنچا رہا تھا اور اس پر 17 ملاح سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ 29 ستمبر کو پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے بندر بیلا ضلع کے دھارن بار علاقے میں منصوبہ بند کارروائی کے دوران جہاز بازیاب کرا لیا اور 21 مشتبہ قزاق گرفتار کیے۔ کارروائی سے قبل قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو قتل کر دیا تھا، جن میں تین پاکستانی، ایک میانمار کا شہری اور ایک بھارتی شامل تھے۔
ویب ڈیسک

