اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں 24 سرکاری تعلیمی ادارے منگل 22 ستمبر سے بند رہیں گے کیونکہ متوقع سیاسی احتجاج اور مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ صرف منتخب اداروں پر لاگو ہوگا۔ دارالحکومت کے دیگر اسکول اور کالج معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔
سیکیورٹی انتظامات کی وجہ
حکام نے اس عارضی بندش کو آئندہ مظاہروں کے لیے سیکیورٹی انتظامات سے جوڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور کسان تنظیموں نے احتجاجی سرگرمیوں اور اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
انتظامیہ ان منتخب اسکولوں کو اسلام آباد سے باہر سے آنے والے پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے استعمال کرے گی۔ یہ اہلکار متوقع احتجاج کے دوران مقامی انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔
متاثرہ اداروں میں سے کئی سیکٹر جی-6، ایف-6، ایف-7 اور جی-7 میں واقع ہیں۔ ترنول، سنگجانی، سہالہ اور راول ڈیم کے اطراف کے منتخب تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔
ریڈ زون کے اطراف سخت پہرہ
دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے شہر کے اہم حصوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ حساس علاقوں کے قریب نفری بڑھا دی گئی ہے اور ریڈ زون کے اطراف بھی سیکیورٹی سخت کی گئی ہے۔ حکام سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات کے اطراف خلل سے بچنا چاہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اہم داخلی راستوں پر رکاوٹوں اور سڑکوں کی بندش کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ شپنگ کنٹینرز کو عارضی رکاوٹوں کے طور پر استعمال کرنے کی تیاریاں جاری ہیں اور بعض کنٹینرز کو مٹی کے تھیلوں سے بھرا جا رہا ہے۔ اہم راستوں پر خندقیں کھودنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔
والدین اور طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ معمولات تبدیل کرنے سے پہلے اپنے اسکول سے براہ راست رابطہ کر کے تصدیق کر لیں۔
ویب ڈیسک

