عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے جمعرات کو مسلح گروہوں کے لیے 30 جون 2027 کی نئی ڈیڈ لائن کا اعلان کیا جس تک انہیں ہتھیار ریاست کے حوالے کرنا ہوں گے۔ یہ اعلان ملک میں امریکہ کی قیادت والے اتحاد کے مشن کے خاتمے کے بعد بغداد میں یوم خودمختاری کانفرنس میں کیا گیا جو غیر ملکی افواج کے انخلا کی یاد میں منعقد ہوئی تھی۔
الزیدی نے ایک بیان میں کہا: "یکم اکتوبر کو ریاستی کنٹرول سے باہر ہتھیاروں کے مسئلے سے نمٹنے کا سنجیدہ آغاز سمجھا جاتا ہے، ایک واضح روڈ میپ اور متفقہ ٹائم لائن کے مطابق جو 30 جون 2027 سے آگے نہیں بڑھے گی۔” انہوں نے 30 ستمبر کی اصل ڈیڈ لائن سے پیچھے ہٹتے ہوئے یہ نئی تاریخ دی۔
عراقی حکومت کا ماننا ہے کہ اتحادی افواج کا انخلا مسلح گروہوں سے اسلحہ رکھنے کا وہ بہانہ چھین لے گا جو وہ استعمال کرتے آئے ہیں۔ تاہم کئی حلقوں کو خدشہ ہے کہ انخلا ان گروہوں کو مزید طاقتور بنا سکتا ہے اور ملک کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں گہرا دھکیل سکتا ہے۔
الزیدی نے جمعرات کو کہا: "آئینی اصول کی بنیاد پر جنگ و امن کا فیصلہ آئینی حکام کے پاس ہونا چاہیے اور اس کے خلاف ہر فوجی کارروائی پر پابندی ہے۔”
ڈیڈ لائن کیوں اہم ہے
امریکہ کی قیادت والا اتحاد ایک دن قبل باضابطہ طور پر عراق میں اپنا مشن ختم کر چکا ہے؛ یہ اتحاد ایک دہائی سے زائد قبل دہشت گرد تنظیم داعش سے لڑنے میں مدد کے لیے تعینات ہوا تھا۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے جمعرات کو انخلا کا خیرمقدم "تاریخی فتح” قرار دیتے ہوئے امریکی فوجیوں سے مشرق وسطیٰ چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔
الزیدی نے اصل میں گروہوں کے لیے ہتھیار ڈالنے کی 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم ہتھیاروں کو "منظم” کرنے پر مذاکرات کے دوران اسے واپس لے لیا تھا۔ بعض گروہ پہلے ہی ہتھیار ریاست کے حوالے کر چکے ہیں جبکہ دیگر نے انکار کیا ہے۔
تہران کی حمایت یافتہ عراقی مسلح گروہوں نے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کے "کسی ٹائم لائن یا معاہدے کے پابند نہیں”۔ اتحاد کے انخلا کا جشن منانے والی تقریب میں کتائب حزب اللہ کے فوجی ترجمان جعفر الحسینی نے کہا کہ گروہ ہتھیار "منظم” کرنے پر مذاکرات میں تھے لیکن "عراقی حکومت کی جانب سے ابھی کوئی جواب نہیں ملا”۔
انہوں نے کہا: "اس بنیاد پر اسلامی مزاحمت اعلان کرتی ہے کہ وہ کسی ٹائم ٹیبل یا معاہدے کی پابند نہیں جس کا کسی حکومتی یا سیاسی جماعت نے ذکر کیا ہو یا کرے۔”
ملیشیاؤں کی شرائط اور حکومت کو دھمکی
گروہوں نے ایسی شرائط رکھی ہیں جن میں صرف غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہی نہیں بلکہ عراق میں امریکی سیاسی و معاشی مداخلت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ کتائب حزب اللہ نے کہا ہے کہ "قابض افواج” کا انخلا "مکمل خودمختاری کے حصول کی جانب ایک آغاز” ہے۔ تاہم گروہ نے الزیدی کی حکومت کو دھمکی بھی دی۔
گروہ کا کہنا ہے: "جو حکومت اپنے عوام کی بھلائی کے لیے کام نہیں کرے گی اسے ہر ممکن طریقے سے گرا دیا جائے گا۔”
ایران نواز گروہ طویل عرصے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے امریکی دستوں کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں امریکی کارروائیوں میں کئی گروہی کمانڈر مارے گئے۔ مشرق وسطیٰ کی اس جنگ کے دوران جو ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں سے شروع ہوئی، تہران اور اتحادی گروہوں نے عراق میں حملے تیز کر دیے اور کردستان میں امریکہ کی قیادت والے دستوں کو نشانہ بنایا۔
ویب ڈیسک

