قاہرہ: ایران سے جڑے تنازع کے پہلے ماہ میں عرب معیشتوں کو تقریباً 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق یہ مالی نقصان عرب ممالک کی مجموعی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔
اس اعداد و شمار نے علاقائی حکومتوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جاری بحران سے مشرق وسطیٰ میں تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھا ہے جبکہ توانائی کی فراہمی، جہاز رانی اور معاشی استحکام کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اہم تجارتی راستے خطرے میں
ایران انٹرنیشنل کے مطابق اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ایسکوا) کی ایگزیکٹو سیکرٹری ڈاکٹر رانیہ المسحت نے معاشی صورتحال کی تفصیل بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کی وجہ سے اہم بحری راستوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جو بڑی منڈیوں کو جوڑتے ہیں اور بین الاقوامی تجارت کو سہارا دیتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہ خلیجی ممالک کو عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ اسی طرح باب المندب عالمی جہاز رانی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت ممکن بناتا ہے۔ ان علاقوں میں کسی بھی رکاوٹ سے سپلائی چین متاثر، نقل و حمل کے اخراجات بڑھ اور بین الاقوامی تجارت پر انحصار کرنے والے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں میں بے یقینی
ڈاکٹر رانیہ المسحت کا کہنا تھا کہ خلیجی خطہ، آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور باب المندب ایک جڑا ہوا تجارتی نیٹ ورک بناتے ہیں، جو توانائی کے وسائل، غذائی اجناس اور صنعتی مصنوعات کی نقل و حرکت کو سہارا دیتا ہے۔ جہاز رانی میں تاخیر سے منڈیاں متاثر اور کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
بحران نے سرمایہ کاروں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔ بہت سے سرمایہ کار نئے منصوبوں اور مالی وعدوں کا فیصلہ کرنے سے پہلے علاقائی سیکیورٹی کو دیکھتے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال بڑھنے پر بعض کاروبار توسیعی منصوبے مؤخر کر سکتے ہیں جبکہ دیگر اپنے آپریشن کے تحفظ کے لیے متبادل راستے تلاش کر سکتے ہیں۔
تعاون کی اپیل
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے خبردار کیا کہ بحران کے اثرات عرب معیشتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نقل و حمل کے چیلنجز کی وجہ سے عالمی سپلائی چین کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ جدید معیشتیں ایک دوسرے سے جڑے تجارتی نظام پر انحصار کرتی ہیں۔
ڈاکٹر رانیہ المسحت نے بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری تعاون کی اپیل کی اور محفوظ بحری نقل و حرکت اور بلا تعطل تجارتی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کی۔ علاقائی حکومتیں اب معاشی خطرات کم کرنے کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہیں اور اہم صنعتوں کے تحفظ اور منڈیوں کے اعتماد کی بحالی پر توجہ دے رہی ہیں۔ حتمی معاشی اثر مستقبل کی صورتحال اور استحکام کی بحالی کی کوششوں پر منحصر ہوگا۔
ویب ڈیسک

